انٹر بینک مارکیٹ میں کاروباری ہفتے کے پہلے روز(پیر) امریکی کرنسی کے مقابلے میں پاکستانی روپے نے اپنی مثبت پیش رفت جاری رکھی ۔

کاروبار کے اختتام پر ڈالر کے مقابلے میں روپیہ 281.45 روپے پر بند ہوا، جو کہ ڈالر کے مقابلے میں 1 پیسہ کے اضافے کو ظاہر کرتا ہے۔ یہ روپے کی امریکی کرنسی کے مقابلے میں مسلسل 32 ویں روز بہتری ہے۔

یاد رہے کہ گزشتہ ہفتے ڈالر کے مقابلے روپیہ 9 پیسے یا 0.03 فیصد کی بہتری سے 281.46 روپے پر بند ہوا تھا۔

بین الاقوامی سطح پر امریکی ڈالر پیر کو مستحکم رہا کیونکہ تاجروں کی نظر اس ہفتے فیڈرل ریزرو کے حکام کی متعدد تقاریر پر ہے جو گزشتہ ہفتے مرکزی بینک کے شرح سود میں نرمی کے سلسلے کی بحالی کے بعد امریکی شرح سود کے منظرنامے کے بارے میں مزید اشارے فراہم کرسکتی ہیں۔

گزشتہ ہفتے فیڈ، بینک آف انگلینڈ اور بینک آف جاپان سمیت متعدد شرح سود کے فیصلوں کے بعد کرنسی مارکیٹ میں شدید اتار چڑھاؤ دیکھنے کو ملا تھا، تاہم پیر کو ایشیائی سیشن کے آغاز میں کرنسی کی نقل وحرکت نسبتاً محدود رہی۔

ین کی قدر پیر کو ڈالر کے مقابلے میں 0.16 فیصد کم ہوکر 148.22 پر آگئی، جس سے جمعہ کو حاصل شدہ کچھ فوائد زائل ہوگئے، اس کمی کی وجہ بینک آف جاپان کے حالیہ سخت مؤقف کو قرار دیا جارہا ہے جس نے قریبی مدت میں شرح سود بڑھنے کے امکانات کو جنم دیا ہے۔

دوسری جانب برطانوی پاؤنڈ 1.3458 ڈالر کی سطح تک گر کر دو ہفتے کی کم ترین سطح پر آگیا۔ اس پر دباؤ کی بنیادی وجوہات مقامی چیلنجز ہیں جن میں برطانیہ کے سرکاری قرض میں اضافہ اور بینک آف انگلینڈ کا شرح سود سے متعلق فیصلہ شامل ہیں جس نے پالیسی سازوں کے لیے ترقی اور مہنگائی کے درمیان توازن قائم رکھنے کی مشکل کو نمایاں کردیا ہے۔

تیل کی قیمتیں، جو کہ کرنسی کی برابری کا ایک اہم اشاریہ سمجھی جاتی ہیں، پیر کے روز معمولی حد تک بڑھ گئیں۔ یہ اضافہ یورپ اور مشرقِ وسطیٰ میں جاری جغرافیائی کشیدگی کے باعث ہوا، تاہم عالمی منڈی میں رسد میں ممکنہ اضافے اور تجارتی محصولات (ٹریڈ ٹیرف) کے عالمی ایندھن طلب پر منفی اثرات کے خدشات نے اس رجحان کو محدود رکھا۔

برینٹ کروڈ فیوچرز کی قیمت 28 سینٹ یا 0.42 فیصد اضافے کے ساتھ فی بیرل 66.96 ڈالر تک پہنچ گئی، جب کہ امریکی ویسٹ ٹیکساس انٹرمیڈیٹ (ڈبلیو ٹی آئی) کروڈ 20 سینٹ یا 0.32 فیصد اضافے کے ساتھ 62.88 ڈالر فی بیرل پر ٹریڈ ہوئی۔