بھارتی کپتان سوریا کمار یادو نے اتوار کو دبئی میں ہونے والے ایشیا کپ کے اہم پاک بھارت مقابلے سے قبل مصافحے کے تنازع پر بات کرنے سے گریز کرتے ہوئے اپنی توجہ کھیل پر مرکوز رکھنے کو ترجیح دی ہے۔
گزشتہ اتوار کو دونوں روایتی حریفوں کے درمیان گروپ ’اے‘ کا مقابلہ تلخ اختتام پر ختم ہوا تھا، جب بھارتی کھلاڑیوں نے پاکستانی کھلاڑیوں سے مصافحہ کرنے سے انکار کر دیا۔
یہ دونوں ممالک کے درمیان پہلا براہِ راست ٹاکرا تھا، جب سے مئی میں چار روزہ سرحدی کشیدگی کے دوران 70 سے زائد افراد جاں بحق ہو چکے تھے۔
پاکستان کرکٹ بورڈ (پی سی بی) نے میزبان ٹیم کے خلاف فیصلہ کن گروپ میچ کے لیے میچ ریفری اینڈی پائی کرافٹ کو ہٹانے کا مطالبہ کیا ہے۔
یاد رہے کہ زمبابوے سے تعلق رکھنے والے پائی کرافٹ نے گزشتہ اتوار کو دونوں ٹیموں کے درمیان متنازع میچ کی نگرانی کی تھی۔
اینڈی پائی کرافٹ بدھ کو ہونے والے میچ میں بطور میچ ریفری فرائض انجام دیتے رہے اور وہ اتوار کو پاکستان کے خلاف اہم میچ میں بھی یہی ذمے داری نبھائیں گے۔
ادھر بھارتی میڈیا نے دعویٰ کیا ہے کہ ٹیم نے اتوار کو بھی مصافحے سے اجتناب کی پالیسی پر قائم رہنے کا فیصلہ کیا ہے۔
میچ سے قبل جب بھارتی کپتان سوریا کمار یادو سے مصافحے کے تنازع اور پائی کرافٹ کی موجودگی سے متعلق سوال کیا گیا تو انہوں نے بات گول کرتے ہوئے کہا کہ ”یہ گیند اور بلے کے درمیان ایک اچھا مقابلہ ہو گا۔“
انہوں نے میڈیا دباؤ سے بچنے کے ایک طریقے کا بھی حوالہ دیتے ہوئے کہا کہ ”کمرے کا دروازہ بند کرو، فون بند کرو اور سو جاؤ۔ میرے خیال میں یہ شور سے بچنے کا بہترین طریقہ ہے۔ کہنا آسان ہوتا ہے، مگر کبھی کبھی یہ مشکل بھی ہوتا ہے۔“
بھارت نے گروپ مرحلے کے تینوں میچز میں فتح حاصل کی، جن میں جمعے کو ابو ظہبی میں بہادری سے کھیلنے والی اومان کے خلاف 21 رنز سے کامیابی بھی شامل ہے۔ اس سے قبل بھارت نے پاکستان کو سات وکٹوں اور متحدہ عرب امارات کو نو وکٹوں سے شکست دی تھی۔
اومان جو پہلی بار ایشیا کپ میں شریک ہوا، نے بھارت کے خلاف 167 رنز پر چار وکٹوں کے نقصان پر اننگز مکمل کی، جب کہ بھارت نے 188 رنز پر آٹھ کھلاڑی آؤٹ کیے تھے۔
سوریا کمار نے اومان کی کارکردگی کو سراہتے ہوئے کہا کہ ”میرے خیال میں انہوں نے اچھی کرکٹ کھیلی۔ وہ اچھی بیٹنگ کر رہے تھے اور ہم نے بھی موقع کا فائدہ اٹھاتے ہوئے اپنے کھلاڑیوں کو میدان میں آزمایا۔“
پی سی بی کے مطابق متحدہ عرب امارات کے خلاف پاکستان کا آخری گروپ میچ تقریباً ایک گھنٹہ تاخیر کا شکار ہوا کیونکہ پچھلے میچ کے دوران پیدا ہونے والے تناؤ کے بعد پائی کرافٹ کی موجودگی پر اعتراض کیا گیا تھا۔
معاملہ بعد ازاں حل کر لیا گیا اور پی سی بی نے دعویٰ کیا کہ اینڈی پائی کرافٹ نے معذرت کی۔