دنیا

پاکستان سے دفاعی معاہدے کے بعد بھارت کی سعودی عرب سے ’حساس معاملات‘ کا خیال رکھنے کی توقع

  • سعودی عرب بھارت کو پٹرولیم برآمد کرنے والا ایک بڑا ملک ہے
شائع September 19, 2025 اپ ڈیٹ September 19, 2025 10:01pm

بھارت نے جمعے کے روز کہا ہے کہ اسے امید ہے سعودی عرب دونوں ممالک، بھارت اور سعودی عرب، کے درمیان باہمی مفادات اور حساس معاملات کو مدِنظر رکھے گا۔ یہ بیان اس وقت سامنے آیا جب دو روز قبل سعودی عرب اور پاکستان نے ایک باہمی دفاعی معاہدے پر دستخط کیے ہیں۔

یہ معاہدہ ایسے وقت میں طے پایا ہے جب مشرقِ وسطیٰ میں سفارتی سطح پر غیر یقینی صورتحال جاری ہے اور بھارت و پاکستان کے درمیان خونریز جھڑپوں کے کچھ ہی ماہ بعد یہ پیش رفت سامنے آئی ہے۔ معاہدے میں کہا گیا ہے کہ کسی ایک ملک پر حملہ، دونوں ممالک پر حملے کے مترادف تصور کیا جائے گا۔

بھارتی وزارتِ خارجہ کے ترجمان رندھیر جیسوال نے ہفتہ وار نیوز بریفنگ کے دوران کہا ہے کہ ”بھارت اور سعودی عرب کے درمیان ایک وسیع تر اسٹریٹجک شراکت داری ہے جو گزشتہ چند برسوں میں خاصی مستحکم ہوئی ہے۔“

انہوں نے مزید کہا کہ ”ہم توقع رکھتے ہیں کہ یہ اسٹریٹجک شراکت داری باہمی مفادات اور حساسیتوں کو مدِنظر رکھے گی۔“

سعودی عرب بھارت کو پٹرولیم برآمد کرنے والے سرفہرست ممالک میں سے ایک ہے، اور دونوں ممالک نے رواں سال خام تیل اور مائع قدرتی گیس (ایل پی جی) کی فراہمی میں تعاون بڑھانے پر اتفاق کیا تھا۔

وزیرِاعظم نریندر مودی کے مطابق، دونوں ممالک ریفائنریوں اور پیٹروکیمیکل منصوبوں میں مشترکہ سرمایہ کاری کے امکانات کا بھی جائزہ لے رہے ہیں۔

بھارت کی وزارتِ خارجہ نے جمعرات کو بیان میں کہا کہ وہ اس بات سے واقف تھی کہ پاکستان اور سعودی عرب کے درمیان معاہدہ زیرِ غور تھا، اور نئی دہلی اس کے مضمرات کا جائزہ لے گی۔

پاکستان جو کہ واحد اسلامی ایٹمی طاقت ہے، کی فوج کی تعداد چھ لاکھ سے زائد ہے، جو بھارت جیسے بڑے مخالف کے خلاف دفاع کے لیے تیار ہے۔ دونوں ہمسایہ ممالک تین بڑی جنگیں لڑ چکے ہیں اور حالیہ برسوں میں متعدد جھڑپیں ہو چکی ہیں، جن میں رواں سال مئی میں ہونے والی چار روزہ جھڑپ دہائیوں کی شدید ترین لڑائی شمار کی جا رہی ہے۔