وزیرِاعظم شہباز شریف نے جمعرات کو کہا کہ انہیں سعودی ولی عہد اور وزیراعظم محمد بن سلمان کی جانب سے دیے گئے پُرتپاک اور دل کو چھو لینے والے استقبال نے بے حد متاثر کیا ہے۔ انہوں نے اپنے ریاض کے دورے کے دوران پاکستان اور سعودی عرب کے درمیان دیرینہ سکیورٹی شراکت داری کو باہمی دفاعی معاہدے کے ذریعے نئی بلندیوں تک پہنچانے کو اجاگر کرتے ہوئے کہا کہ”کسی ایک ملک پر جارحیت، دونوں پر جارحیت سمجھی جائے گی۔“
اپنے ایک بیان میں، جو انہوں نے سماجی رابطے کی ویب سائٹ ایکس پر جاری کیا، شہباز شریف نے کہا کہمیرے عزیز بھائی، شاہی ولی عہد اور سعودی عرب کے وزیراعظم شہزادہ محمد بن سلمان کی جانب سے ملنے والے شاندار استقبال نے میرے دل کو گہرائیوں سے چھو لیا۔
وزیراعظم نے کہا کہ شاہی سعودی فضائیہ کے جیٹ طیاروں کی طرف سے ان کے طیارے کو دی گئی تاریخی اسکواٹ سے لے کر سعودی مسلح افواج کے باوقار گارڈ آف آنر تک، سب کچھ دونوں ملکوں کے درمیان قائم دائمی محبت اور باہمی احترام کی جھلک پیش کرتا ہے۔
شہباز شریف نے مزید کہا کہ ولی عہد کے ساتھ ان کی نہایت دوستانہ گفتگو میں خطے کے چیلنجز اور دوطرفہ تعاون کو بڑھانے سمیت کئی امور پر بات ہوئی، جبکہ انہوں نے سعودی رہنما کی مسلم دنیا کے لیے فراہم کی گئی قیادت اور وژن کو بے حد سراہا۔
انہوں نے کہا کہ دوطرفہ سطح پر وہ سعودی ولی عہد کی مستقل حمایت اور پاکستان و سعودی عرب کے درمیان سرمایہ کاری، تجارت اور کاروباری تعلقات کے فروغ میں ان کی گہری دلچسپی کو بے حد قدر کی نگاہ سے دیکھتے ہیں۔انہوں نے کہا کہ میری دلی دعا ہے کہ پاکستان اور سعودی عرب کی دوستی مزید پروان چڑھے اور نئی عظمتوں کو چھوئے، ان شاءاللہ،“۔
دریں اثنا، وزیر دفاع خواجہ آصف نے کہا کہ پاکستان اور سعودی عرب اب دشمن کے مقابلے میں شانہ بشانہ کھڑے ہیں۔
اپنے ایکس پیغام میں خواجہ آصف نے کہا کہپاکستان اور سعودی عرب کے برادرانہ تعلقات کی تاریخ ایک اہم موڑ پر ہے۔ دونوں برادر ممالک دشمن کے خلاف صف بستہ اور شانہ بشانہ کھڑے ہیں۔ خدائے بزرگ و برتر کے سایے میں، ان شاءاللہ، پوری امت مشترکہ دشمن کے خلاف متحد ہوگی۔ پاکستان پائندہ باد، امت مسلمہ زندہ باد۔
ادھر، سعودی وزیر دفاع خالد بن سلمان نے ایکس پلیٹ فارم پر اپنے بیان میں کہا کہسعودی عرب اور پاکستان جارح کے خلاف ہمیشہ شانہ بشانہ کھڑے رہیں گے۔۔۔ ہمیشہ اور ہمیشہ کے لیے۔