**پاکستان اسٹاک ایکسچینج میں جمعرات کو محدود کاروباری سرگرمی کے بعد زبردست تیزی دیکھنے میں آئی۔ کے ایس ای 100 انڈیکس 1,770 سے زائد پوائنٹس کے اضافے کے ساتھ نئی بلند ترین سطح پر بند ہوا۔
پورے کاروباری سیشن کے دوران سرمایہ کاروں کی جانب سے بھرپور خریداری جاری رہی جس نے کے ایس ای 100 انڈیکس کو ایک روز میں 158,082.55 کی بلند ترین سطح تک پہنچا دیا۔
کاروبار کے اختتام پر بینچ مارک انڈیکس 1,775.65 پوائنٹس (1.14 فیصد) کے اضافے سے 157,953.46 پوائنٹس پر بند ہوا۔
خریداری کی سرگرمی آٹو موبائل اسمبلرز، سیمنٹ، کمرشل بینکس، آئل اینڈ گیس ایکسپلوریشن کمپنیز، او ایم سیز، ریفائنری اور پاور جنریشن سمیت اہم شعبوں میں دیکھنے میں آئی۔ نمایاں ہیوی ویٹ اسٹاکس جیسے حبکو، اے آر ایل، ماری، او جی ڈی سی، پی او ایل، پی پی ایل، پی ایس او، ایس ایس جی سی، ایچ بی ایل، میبل، ایم سی بی اور یو بی ایل مثبت زون میں ٹریڈ ہوئے۔
بدھ کو پی ایس ایکس میں سرمایہ کاروں کی بھرپور دلچسپی کے باوجود محتاط ٹریڈنگ دیکھنے میں آئی، جس میں کے ایس ای 100 انڈیکس محض 3.12 پوائنٹس کی کمی کے ساتھ 156,177.82 پوائنٹس پر بند ہوا تھا۔
ایک بڑی پیش رفت کے طور پر، جمعرات کو وزیراعظم شہباز شریف کے دورہ ریاض کے دوران پاکستان اور سعودی عرب کے درمیان اسٹریٹیجک باہمی دفاعی معاہدے پر دستخط ہوئے، جس میں واضح کیا گیا کہ کسی ایک ملک پر جارحیت کو دونوں ممالک پر جارحیت سمجھا جائے گا۔
عالمی سطح پر جمعرات کو اسٹاک مارکیٹس میں اتار چڑھاؤ رہا، کیونکہ فیڈرل ریزرو نے رواں سال کی پہلی بار شرح سود میں کمی تو کی لیکن آئندہ پالیسی میں محتاط رویہ اختیار کرنے کا عندیہ دیا، جس سے سرمایہ کار مستقبل کے اقدامات کے حوالے سے غیر یقینی کا شکار رہے۔
ایم ایس سی آئی کا ایشیا پیسیفک شیئرز (جاپان کے سوا) انڈیکس 0.1 فیصد کم ہوا کیونکہ آسٹریلیا اور نیوزی لینڈ کی مارکیٹوں میں مندی کا دباؤ دیکھا گیا، جبکہ چینی اسٹاکس میں اتار چڑھاؤ رہا۔ تاہم کچھ مارکیٹوں میں بہتری کے آثار نمایاں ہوئے، امریکی فیوچر مارکیٹ 0.4 فیصد اوپر گئی، جنوبی کوریا کے حصص میں 0.8 فیصد اور تائیوان میں 0.4 فیصد اضافہ ہوا، جبکہ جاپان کا نکئی 225 بھی 1 فیصد بڑھا۔
بدھ کو عالمی اسٹاکس ریکارڈ سطح پر پہنچنے کے بعد فیڈ کی جانب سے شرح سود میں کمی اور مستقبل میں بتدریج مزید کمی کے اشارے پر دباؤ کا شکار ہو گئے تھے۔ تاہم، فیڈ چیئرمین جیروم پاول نے کہا کہ یہ فیصلہ خطرات کے انتظام کے پیش نظر کیا گیا ہے اور فوری طور پر تیز رفتار کمی کی ضرورت نہیں۔