عجیب و غریب، تھکا ماندہ، لا تعلق، تنہا، غیر وابستہ، ذہنی خلفشار کا شکار، اور دنیا سے بددل، یہ سب محض چند نرم الفاظ ہیں جو آج کی اُس نئی نسل کی عکاسی کرتے ہیں جو حال ہی میں پیشہ ورانہ دنیا میں قدم رکھ رہی ہے۔ یہ ایک ایسا معمہ ہے جو اب تک حل نہیں ہو پایا، ایک ایسی پہیلی جو سمجھ میں نہیں آ رہی۔
سوشل میڈیا ان کے رویّے پر بننے والی ریلس اور میمز سے بھرا پڑا ہے۔ چیٹ گروپس ہوں یا فکری نشستیں، سب اس موضوع پر بحث و تمحیص کرتے کرتے نڈھال ہو چکے ہیں۔ مگر یہ نسل اب بھی ایک ایسا مظہر بنی ہوئی ہے جسے سمجھا نہیں جا سکا، ایک ایسا رویّہ جو آج بھی تشریح سے باہر ہے۔
یہی فکری الجھن یا نا سمجھی گھر اور دفتر، دونوں جگہ، نئی پیچیدگیوں کو جنم دے رہی ہے۔
والدین مسلسل شکایت کرتے نظر آتے ہیں کہ وہ نہ ان سے جڑ پا رہے ہیں، نہ اُن کی راہنمائی کر پاتے ہیں، اور نہ ہی اُن کی سمت درست کرنے میں کامیاب ہو رہے ہیں۔
دفاتر میں موجود سینئر افراد، اس نئی نسل سے نہ جُڑ پا رہے ہیں، نہ ہی انہیں مشغول (انگیج) کرنے میں کامیاب ہو رہے ہیں۔ یہ عدم ارتباط ایک ایسا خلا پیدا کر رہا ہے جو وقت کے ساتھ گہرا اور خطرناک ہوتا جا رہا ہے، اور ممکنہ طور پر تعلقات کے ٹوٹنے تک جا پہنچ سکتا ہے۔
اس نسل کے بارے میں معلومات کی کمی نہیں، لیکن اُن میں سے ضروری باتوں کو چھان کر، ترتیب دے کر، ایک نئے زاویے سے دیکھنے کی ضرورت ہے، تاکہ ”زی فیکٹر“ کی گتھی کو کچھ حد تک سلجھایا جا سکے۔
کہا جاتا ہے کہ جنریشن زی کے کارکن کو آپ دور سے ہی پہچان سکتے ہیں۔پہلے زمانے میں دفتر میں داخل ہونے کا مطلب ہوتا تھا: ایک سنجیدہ اور پیشہ ورانہ فضا۔سینئرز اپنے علیحدہ کمروں میں بیٹھے ہوتے، اور جونیئرز ہال میں قطاروں میں بیٹھ کر اپنا کام کرتے نظر آتے۔
مگر آج کا منظرنامہ مختلف ہے، اب دفتر میں قدم رکھتے ہی پہلا منظر شاید کچھ یوں ہوتا ہے: ایک نوجوان اپنے میز پر جھکے بیٹھا ہے، ایک ٹانگ کرسی پر چڑھی ہوئی، دوسرا بازو کسی ہڈ میں چھپا ہوا، اور دھیان کہیں اور۔
جب آپ ہال میں چلتے تھے تو معمول کی بات تھی کہ کارکن آپ کو سر ہلا کر سلام اور تعارف کا اشارہ کرتے۔ مگر اب منظر کچھ اور ہے۔ کوئی نوجوان لڑکی یا لڑکا بے نیاز بیٹھا باتیں کر رہا ہوتا ہے، آپ کی موجودگی کو نظر انداز کرتا ہے۔ صبح کی میٹنگ کا آغاز ہوتا ہے، اور آپ دیکھتے ہیں کہ کوئی شخص مشہور ”جن زی“ کے مخصوص نظروں سے آپ کو گھور رہا ہے، جیسے کہ دنیا سے بیزاری لیے ہوئے ہو۔ کبھی آپ کسی سیفٹی بریفنگ سیمینار میں شامل ہوتے ہیں، تو نوجوان ٹریک سوٹ اور پاجامے میں ملبوس، آرام دہ انداز میں بیٹھے ہوتے ہیں، جو ماضی کی رسمی اور پروفیشنل ورک کلچر سے یکسر مختلف ہے۔
یہ رویے بیشتر پیشہ ور افراد کے لیے نئے اور غیر معمولی ہیں۔
یہ بات بہت سے لوگوں کو ناگوار گزرتی ہے۔ وہ ایسے الگ تھلگ رہنے والے افراد سے گریز کرتے ہیں۔ ان کے رویے کو گستاخی اور غیر پیشہ ورانہ سمجھتے ہیں۔ یوں ان سے تعلق ختم کر دیتے ہیں اور صرف اس کا انتظار کرتے ہیں کہ یہ نسل ناکام ہو جائے۔ جب ایسا ہوتا ہے تو انہیں نہ صرف چھپا کر بلکہ کھلے عام بھی تنقید کا نشانہ بنایا جاتا ہے۔ نتیجہ یہ نکلتا ہے کہ ”یہ نسل نہ محنت کرنے کو تیار ہے اور نہ مہارت سیکھ رہی ہے۔“
اگرچہ کچھ معاملات میں یہ بات درست ہو سکتی ہے، مگر پوری نسل کے لیے یہ الزام غلط ہے۔ فیصلے ظاہری صورت حال کی بنیاد پر کیے جاتے ہیں، اور اصل حقائق کو جانچا نہیں جاتا۔ جنریشن زی کے بارے میں چند عام غلط فہمیاں یہ ہیں:
غلط فہمی نمبر 1، جنریشن زی دفتر کے کام سے بغاوت کرتی ہے: کمپنیوں کی سب سے بڑی شکایت یہ ہے کہ یہ نسل دفتر آنا پسند نہیں کرتی۔ یہ لوگ کووِڈ کے دوران گھر پر بند رہے اور اس کے بعد بھی اسکرین کے ذریعے رابطہ کرنے کو ترجیح دیتے ہیں۔
حالانکہ یہ سچ ہے کہ جنریشن زی نے اپنی سب سے حساس عمر کووِڈ کے دوران گزاری، مگر یہ بات غلط ہے کہ وہ صرف گھر سے کام کرنا چاہتے ہیں۔ ایک مطالعے کے مطابق صرف 11 فیصد جنریشن زی مکمل طور پر گھر سے کام کرنا چاہتے ہیں، جبکہ 34 فیصد بڑی عمر کے کارکن ایسا چاہتے ہیں۔ حقیقت میں، تقریباً 74 فیصد جنریشن زی ملازمین گھر اور دفتر دونوں جگہ کام کرنے کی لچک پسند کرتے ہیں۔ وہ اپنے ساتھیوں اور سینئرز سے بہتر اور معیاری تعلقات قائم کرنا چاہتے ہیں۔
غلط فہمی نمبر 2 ، جنریشن زی کا گھورتا ہوا نظر آنا بے ادبی اور حقارت ظاہر کرتا ہے: ان نوجوانوں کی بے حسی یا عدم دلچسپی کے ساتھ پلک جھپکائے بغیر گھورتے رہنے کی عادت نے دفاتر میں گہری بحث چھیڑ دی ہے۔ دوسروں کو یہ نظر ان کی بے دلی اور حتیٰ کہ سرکشی کی علامت لگتی ہے۔ درحقیقت، یہ نظر ان کا جذباتی تحفظ ہے، جہاں وہ بے وجہ مسکرانے یا ہر چیز کے لیے تیار دکھائی دینے سے ہچکچاتے ہیں۔ ہاں، یہ نسل جذبات کے بجائے ایموجی استعمال کرنے میں زیادہ آرام دہ ہے، مگر وہ سمجھنے اور قدر کرنے کی پیاس بھی رکھتے ہیں۔ یہ گھورنا ایک حفاظتی دیوار ہے کہ انہیں معمولی نہ سمجھا جائے۔
غلط فہمی نمبر 3، جنریشن زی ”جان بوجھ کر غیر رسمی“ رویہ اپناتی ہے: ایک اور رائے یہ ہے کہ یہ نسل قائدانہ یا انتظامی عمل کو تسلیم کرنے سے انکار کرتی ہے، سمجھتی ہے کہ وہ سب کچھ جانتی ہے، اس لیے اپنے مینیجرز یا سینئرز کو جواب نہیں دیتی۔ یہ بھی کچھ حد تک سخت ہے۔ وہ رہنماؤں کا احترام کرتے ہیں، مگر صرف اس لیے نہیں کہ انہیں کرنا ضروری ہے۔ انہیں روایتی انتظامی ڈھانچے بوجھل لگتے ہیں اور وہ زیادہ شامل کرنے والے اور ماہرین پر مبنی قیادت کے انداز چاہتے ہیں۔
اگر یہ غلط فہمیاں ہیں تو پھر اس نسل کی قیادت کے کیا اصول ہوں؟وہ پہلے ہی ورک فورس کا 27 فیصد حصہ ہیں اور 2035 تک اکثریت بن جائیں گے۔ اسی لیے یہ سمجھنا ضروری ہے کہ انہیں کیا چیز حرکت میں لاتی ہے اور کیا چیز انہیں دور کرتی ہے۔
یہ لفظ ”ick“ ان کی نفرت اور ناگواری کی علامت ہے جو وہ کسی بھی مایوس کن چیز کے لیے محسوس کرتے ہیں۔ آئیے کچھ قیادتی اسباق دیکھتے ہیں جو ہمیں اس پراسرار نسل کی پوشیدہ صلاحیتوں کو سمجھنے اور کھولنے کے لیے اپنانے ہوں گے:
اصلی رہیں، لچکدار بنیں: جنریشن زی کو وہ پرانا ڈھنگ بالکل پسند نہیں کہ آپ کو بس حکم ماننا ہے۔ وہ زیادہ آزادانہ ماحول میں بڑے ہوئے ہیں۔ وہ سوشل میڈیا کی مصنوعی چھب سے تنگ آ چکے ہیں۔ انہیں ایسے رہنما چاہئیں جو سچے اور مخلص ہوں۔ وہ کام کے فیصلوں میں زیادہ لچک اور شمولیت چاہتے ہیں۔ رہنما صرف باتیں نہیں کر سکتے، نہ صرف فیڈبیک دیں بلکہ لینے کے لیے بھی تیار رہیں۔ جو کہتے ہیں، وہ عمل بھی کریں۔
مفہوم خیز اور متاثر کن رہیں: یہ نسل بے معنی کام کرنے کو ناپسند کرتی ہے۔ رہنماؤں کو انہیں وژن دینا ہوگا، صرف جاب ڈسکرپشن سے آگے بڑھنا ہوگا۔ انہیں ذاتی اور پیشہ ورانہ دونوں سطحوں پر ان کے خواب اور امنگیں سمجھ کر جوڑنا ہوگا۔
سماجی ذمہ داری کا مظاہرہ کریں: یہ نسل کمپنیوں کی منافقت پر طنزکرنے والی ہے جو بڑے بڑے دعوے کرتی ہیں مگر صرف نمبروں میں مصروف ہوتی ہیں۔ انہیں کسی بڑی اور معنی خیز مقصد سے جوڑیں۔ وہ ایسے رہنماؤں کے ساتھ کام کرنا پسند کرتے ہیں جو سماجی مسائل کے بارے میں حساس ہوں اور انہیں شامل کریں۔
نہ تو جنریشن زی اجنبی ہے، نہ ہی رہنما بالکل بے حس۔ اصل بات یہ ہے کہ رہنماؤں کو اپنے انداز بدل کر اس نسل کے قریب آنا ہوگا۔ انہیں کھینچ کر شامل کرنا ہوگا۔
حال ہی میں میں نے دفتر میں ایک عام جنریشن زی ملازم رکھا۔ شروع کے دو ہفتے اس کا رویہ بالکل ویسا ہی تھا: الگ تھلگ، گھورتا ہوا، لاتعلق اور مایوس۔ پھر میں نے اس سے طویل بات چیت کی۔
یہ ایک دریافت تھی۔ میں نے اپنے انداز میں تبدیلی کی اور باقی ٹیم کو بھی سمجھایا کہ اسے کیسے شامل کریں اور انگیج کریں۔ اس کا رویہ بدل گیا۔ اس کی سستی جوش میں بدل گئی، اس نے تمام ذمہ داریاں قبول کیں اور سب سے زیادہ پیداواری رکن بن گیا۔
آخر میں سب سے اہم بات یہ ہے کہ ہر دل کی اپنی دھڑکن ہوتی ہے۔ اس نسل کی دھڑکن سمجھنے کے لیے دل سے بات کریں، انہیں مقصد اور جذبے سے جوڑیں، اور دیکھیں کہ معمولی لوگ کیسے غیر معمولی بن جاتے ہیں۔
کاپی رائٹ بزنس ریکارڈر، 2025