ابھرتے ہوئے قدرتی وسائل کے ملکی شعبے خصوصاً کان کنی اور معدنیات ،بین الاقوامی سرمایہ کاروں اور معروف غیر ملکی اداروں کو اپنی جانب متوجہ کر رہے ہیں جس سے نہ صرف ملک میں سرمایہ کاری کے مواقع بڑھیں گے بلکہ انشورنس سیکٹر کو بھی تقویت ملے گی، جو کلائنٹس کو پائیدار انداز میں بڑے منصوبے شروع کرنے میں مدد ہوں گے۔
بزنس ریکارڈر سے خصوصی گفتگو کرتے ہوئے فیڈیلٹی انشورنس بروکر(ایف آئی بی ) کے چیف آپریٹنگ آفیسر( سی او او) فیصل مکڈا نے کہا کہ انشورنس سیکٹر مستقبل میں بے پناہ مواقع کی توقع رکھتا ہے،تاکہ پاکستان کی اربوں ڈالر مالیت کی مائنز اور منرلز انڈسٹری کے لیے قابلِ اعتماد حفاظتی جال فراہم کیا جا سکے اور سرمایہ کاروں کے اعتماد کو مزید مضبوط بنایا جا سکے۔
انہوں نے کہا کہ پاکستان معدنی وسائل اور قابلِ تجدید توانائی کی بڑی صلاحیتوں سے مالامال ہے، جو طویل مدتی معاشی ترقی اور پائیدار ترقی کی بنیاد فراہم کرتا ہے۔ ملک کے ذخائر میں اہم دھاتیں ریئر ارتھ ایلیمنٹس، قیمتی پتھر، نمک اور صنعتی معدنیات شامل ہیں، جو پاکستان کو عالمی سپلائی چینز میں ایک ابھرتے کھلاڑی کے طور پر سامنے لاتے ہیں۔
بلوچستان کا ریکو ڈک منصوبہ دنیا کے سب سے بڑے غیر ترقی یافتہ تانبے اور سونے کے ذخائر میں شمار ہوتا ہے،جہاں تقریباً 7.3 ملین ٹن تانبا اور 1.3 کروڑ اونس سونا موجود ہےجب کہ اسی صوبے میں دُدّر مائن بھی ایک اہم منصوبہ ہے، جس میں تقریباً 5 کروڑ ٹن سیسہ زنک ایسک موجود ہے۔
اس بڑی صلاحیت کے باوجود پاکستان کی معیشت میں مائننگ سیکٹر کا حصہ انتہائی کم ہے۔ یہ شعبہ محض 2 سے 3 فیصد جی ڈی پی میں اضافہ کرتا ہے جبکہ معدنیات کی برآمدات تقریباً 0.5 ارب ڈالر ہیں، جو 401 ارب ڈالر کی عالمی معدنی تجارت کا صرف 0.1 فیصد ہے۔
فیصل مکڑا نے کہا انشورنس کمپنیاں نہ صرف اربوں ڈالر کے منصوبوں کی بینک ایبلٹی برقرار رکھنے،عالمی سرمایہ کاروں کے اعتماد کو مضبوط بنانے اور غیر یقینی حالات میں بھی آپریشنل تسلسل کو یقینی بنانے میں بنیادی کردار ادا کرتی ہیں بلکہ کیش فلو کو مستحکم اور غیر متوقع رکاوٹوں سے تحفظ فراہم کرکے انشورنس اسٹریٹجک وژن کو بھی عملی جامہ پہنانے کی بنیاد فراہم کرتی ہیں۔
انہوں نے اپنی کمپنی کے منصوبوں کی وضاحت کرتے ہوئے بتایا کہ آیف آئی بی لاکٹن پاکستان کی انرجی انشورنس مارکیٹ میں نمایاں حیثیت ہے، جو قابلِ تجدید توانائی، بجلی، مائننگ اور انرجی کے شعبوں میں مہارت رکھتی ہے۔ یہ شعبے قومی ترقی کے اہم انجن کے طور پر ابھر رہے ہیں اور ایف آئی بی محض انشورنس ہی نہیں بلکہ اعتماد، استقامت اور طویل مدتی پائیداری فراہم کر رہی ہے۔
ان کا کہنا تھا کہ عالمی شراکت داری، اسٹریٹجک رسک مینجمنٹ اور جدید کوریج اسٹرکچرز کے ذریعے ایف آئی بی اس بات کو یقینی بنائے گی کہ یہ منصوبے نہ صرف محفوظ ہوں بلکہ پائیدار قومی ترقی کے لیے مؤثر بھی ثابت ہوں۔
فیصل مکڑا نے مزید کہا کہ دنیا بھر میں جدید رسک سلوشنز صنعتوں کی ترقی کو نئی جہت دے رہے ہیں اور پاکستان بھی اس سے مستثنیٰ نہیں ہے، جہاں پیرا میٹرک انشورنس اب قابلِ تجدید منصوبوں کو موسمی تغیرات کی وجہ سے پیداوار میں کمی سے بچا رہی ہے۔
ایف آئی بی لاکٹن کے اشتراک سے قدرتی وسائل اور توانائی کانفرنس 2025 کی میزبانی 17 ستمبر کو کراچی کے مقامی ہوٹل میں کرے گی۔ اس اہم ایونٹ میں توانائی کے ماہرین، بین الاقوامی انشورنس ادارے، مالیاتی ماہرین اور گلوبل رسک ایکسپرٹس شرکت کریں گے ،تاکہ چیلنجز پر بات ہو، نئی راہیں تلاش کی جائیں اور ترقی کے مزید مواقع پیدا کیے جائیں۔