نیشنل فوڈز لمیٹڈ (این اے ٹی ایف) کے شیئر ہولڈرز نے اپنی سبسڈری کی اے-ون بیگز اینڈ سپلائیز میں سرمایہ کاری کی مجوزہ ری اسٹرکچرنگ کی منظوری دے دی ہے، جس میں سرمایہ کاری برقرار رکھنے کے ساتھ ساتھ جزوی ڈائیوسٹمنٹ (حصہ فروخت) بھی شامل ہے۔

یہ پیش رفت کمپنی کی جانب سے منگل کے روز پاکستان اسٹاک ایکسچینج کو بھیجے گئے نوٹس میں ظاہر کی گئی۔

نوٹس میں کہا گیا کہاے-ون بیگز اینڈ سپلائیز میں سرمایہ کاری کی ری اسٹرکچرنگ، جس میں سرمایہ کاری برقرار رکھنے اور جزوی ڈائیوسٹمنٹ کے دونوں اجزاء شامل ہیں، کے حوالے سے آگاہ کیا جاتا ہے کہ نیشنل فوڈز دبئی ملٹی کموڈیٹیز سینٹر، جو نیشنل فوڈز لمیٹڈ کی سبسڈری ہے، کے ذریعے یہ عمل مکمل کیا جا رہا ہے۔ مزید یہ کہ 15 ستمبر 2025 کو ہونے والے غیر معمولی جنرل میٹنگ میں شیئر ہولڈرز نے مجوزہ ری اسٹرکچرنگ پلان کی منظوری دے دی ہے۔

کمپنی نے مزید بتایا کہ شیئر ہولڈرز نے اس حوالے سے درکار تمام معاہدوں کی اجازت بھی دے دی ہے۔

یاد رہے کہ رواں سال فروری میں نیشنل فوڈز دبئی ملٹی کموڈیٹیز سینٹر، جو دبئی میں رجسٹرڈ نیشنل فوڈز لمیٹڈ کی مکمل ذیلی کمپنی ہے، نے اعلان کیا تھا کہ وہ اپنی شارجہ، یو اے ای میں رجسٹرڈ سبسڈری نیشنل فوڈز (ایف زیڈ ای) کو بند کر رہی ہے۔

نیشنل فوڈز لمیٹڈ 1971 میں پاکستان میں پرائیویٹ لمیٹڈ کمپنی کے طور پر قائم ہوئی تھی، جسے بعد ازاں پبلک لمیٹڈ کمپنی میں تبدیل کر دیا گیا۔

کمپنی کی بنیادی سرگرمی فوڈ پراڈکٹس کی تیاری اور فروخت ہے۔ نیشنل فوڈز کے پاس تقریباً 12 بڑی کیٹیگریز میں 250 مصنوعات پر مشتمل متنوع پورٹ فولیو ہے، جبکہ اس کا عالمی نیٹ ورک 40 ممالک اور 5 براعظموں میں پھیلا ہوا ہے۔

کمپنی کی حتمی پیرنٹ انٹیٹی اے ٹی سی ہولڈنگز (پرائیویٹ) لمیٹڈ ہے۔