صدر آصف علی زرداری نے اتوار کو چنگدو سے میانیانگ کا سفر ہائی اسپیڈ ٹرین کے ذریعے کیا، جو تقریباً نصف گھنٹے میں مکمل ہوا۔

صدرآصف زرداری کے پریس ونگ کے مطابق، سفر کے دوران انہیں ٹرین کے آپریشنز، سروس، حفاظتی نظام اور ماحولیاتی فوائد کے بارے میں بریفنگ دی گئی۔

صدرآصف زرداری کے ہمراہ پاکستان کے چین میں سفیر خلیل ہاشمی، چین کے پاکستان میں سفیر جیانگ زائی ڈونگ، جو دورے کے دوران صدر کے ساتھ سفر کر رہے ہیں، اور سینیٹر سلیم مانڈوی والا بھی موجود تھے۔

صدر آصف زرداری نے چین کی پائیدار اور مضبوط ٹرانسپورٹ کے شعبے میں کامیابیوں کی تعریف کی، جن میں آلودگی سے پاک برقی پروپلسن اور زلزلہ قبل انتباہ کی ٹیکنالوجیز شامل ہیں، اور انہیں ریلوے انجینئرنگ کا ایک کمال قرار دیا۔ انہوں نے نوٹ کیا کہ یہ اختراعات دیگر ممالک بشمول پاکستان کے لیے قیمتی اسباق فراہم کرتی ہیں۔

عہدیداروں نے بتایا کہ چین اب دنیا کے سب سے بڑے ہائی اسپیڈ ریل نیٹ ورک کو چلا رہا ہے، جس کی لمبائی 45,000 کلومیٹر سے زائد ہے اور یہ سالانہ دو ارب سے زیادہ مسافروں کو لے جاتا ہے۔

350 کلومیٹر فی گھنٹہ کی رفتار سے چلنے والی ٹرینیں تقریباً تمام بڑے چینی شہروں کو آپس میں جوڑتی ہیں۔ چین نے ایک معیاری، مخصوص مسافر نظام قائم کیا ہے جو جدید کنیکٹوٹی کا ماڈل بن گیا ہے۔

صدر آصف زرداری کی آمد پر میانیانگ کے نائب میئر وو ہاؤ نے بھی ان کا استقبال کیا۔