وزیراعلیٰ سندھ سید مراد علی شاہ نے جمعے کے روز کہا ہے کہ ان کی حکومت ورلڈ بینک کے تعاون سے کراچی کے سفر کے مسائل کے حل کے لیے کراچی ٹرانسپورٹ ماسٹر پلان تیار کرے گی۔
وزیراعلیٰ ہاؤس کی جانب سے جاری کردہ بیان میں کہا گیا ہے کہ اس منصوبے میں بس ریپڈ ٹرانزٹ (بی آر ٹی) سسٹمز، میٹرو لائٹ ریل، اور کراچی سرکلر ریلوے کی بحالی کو شامل کیا جائے گا، تاکہ شہر کو جدید اور پائیدار سفری حل فراہم کیے جا سکیں۔
یہ اعلان وزیراعلیٰ ہاؤس میں ایک اجلاس کے دوران کیا گیا ہے، جس میں مشرق وسطیٰ، شمالی افریقہ اور پاکستان کے لیے ورلڈ بینک کے ٹرانسپورٹ پریکٹس مینیجر ابراہیم خلیل زکی کی قیادت میں اعلیٰ سطح کے وفد نے شرکت کی۔
وفد میں لیڈ ٹرانسپورٹ اکنامسٹ جورج بیانکو، سینئر ٹرانسپورٹ اسپیشلسٹ فریڈریکو فریرا، پاپا مودو اور محترمہ ماگالی سمیت دیگر اہلکار بھی شامل تھے۔
وزیراعلیٰ کے ہمراہ سندھ کے وزیر ٹرانسپورٹ شرجیل انعام میمن، وزیر منصوبہ بندی و ترقیات سید ناصر حسین شاہ، چیف سیکریٹری آصف حیدر شاہ، چیئرمین پلاننگ اینڈ ڈیولپمنٹ نجم شاہ، وزیراعلیٰ کے سیکریٹری رحیم شیخ اور سیکریٹری ٹرانسپورٹ اسد ضامن بھی موجود تھے۔
وزیراعلیٰ سندھ سید مراد علی شاہ نے ورلڈ بینک کو ”اہم ترقیاتی شراکت دار“ قرار دیتے ہوئے کہا کہ ماسٹر پلان میں تعاون صرف یلو لائن بس ریپڈ ٹرانزٹ (بی آڑ ٹی) تک محدود نہیں رہے گا بلکہ اسے وسیع کیا جائے گا۔
انہوں نے بتایا کہ کراچی کیلئے روزانہ کی طلب کو پورا کرنے کے لیے کم از کم 15,000 بسوں کی ضرورت ہے۔ انہوں نے کہا کہ بی آر ٹی کارڈورز ضروری ہیں لیکن ان کے ساتھ میٹرو لائٹ ریل اور کراچی سرکلر ریلوے جیسے نظام بھی مکمل کیے جائیں گے۔ سندھ کی جانب سے الیکٹرک بسوں کا تعارف ایک بڑا ماحولیاتی اقدام ہے جس پر انہوں نے زور دیا۔
ورلڈ بینک کے پریکٹس مینیجر ابراہیم خلیل زکی نے ماسٹر پلان کے لیے مکمل تکنیکی اور مالی معاونت کی یقین دہانی کرائی۔ منصوبہ کئی اقسام کے ٹرانسپورٹ نظام جیسے بی آر ٹی، میٹرو ریل، سیاحتی اور مال بردار ٹرینیں اور کراچی سرکلر ریلوے پر مشتمل ہوگا۔ انہوں نے کراچی میں ٹرانسپورٹ انڈسٹری کی ترقی کی اہمیت بھی اجاگر کی، جو نہ صرف شہر بلکہ ملکی سطح پر طلب کو پورا کرے گی۔
اس پر وزیراعلیٰ مراد علی شاہ نے دھابیجی کو ٹرانسپورٹ انڈسٹری کے قیام کے لیے مخصوص ہب بنانے کی پیشکش کی اور سرمایہ کاروں کو مکمل تعاون کی یقین دہانی کرائی۔
اجلاس میں ایک مشترکہ ورکنگ گروپ بنانے پر اتفاق کیا گیا جو ماسٹر پلان کی تیاری کے لیے ماہرین کے شرائطِ کار ( ٹرمز آف ریفرنس) کو حتمی شکل دے گا۔ اس گروپ میں سندھ حکومت اور ورلڈ بینک کے نمائندے شامل ہوں گے اور اسے چیف سیکریٹری کی جانب سے باضابطہ نوٹیفائی کیا جائے گا۔
وزیراعلیٰ نے اس شراکت داری کو کراچی کے لیے ”بڑی خوشخبری“ قرار دیا اور کہا کہ یہ شہر کے سفری مسائل کے طویل المدتی حل کی راہ ہموار کرے گی۔
یلو لائن بی آر ٹی پروجیکٹ کے حوالے سے انہوں نے بتایا کہ اس کی تکمیل اور دیگربی آر ٹی کارڈورز شہر کی عوامی آمدورفت کو بدل دیں گے۔ یہ منصوبہ ورلڈ بینک، سندھ حکومت اور نجی شعبے کی مشترکہ مالی معاونت سے چل رہا ہے۔
سندھ کے وزیر ٹرانسپورٹ شرجیل انعام میمن نے یلو لائن بس ریپڈ ٹرانزٹ (بی آر ٹی) منصوبے کی تفصیلات بیان کرتے ہوئے کہا کہ یہ پروجیکٹ 21 کلومیٹر طویل ہے جو داؤد چورنگی سے خالد بن ولید روڈ تک پھیلا ہوا ہے۔