قطر کے وزیراعظم شیخ محمد بن عبدالرحمن آل ثانی جمعہ کے روز واشنگٹن میں اعلیٰ امریکی حکام سے ملاقات کریں گے، جہاں غزہ میں جنگ بندی کے امکانات اور قطر میں اسرائیلی حملے پر بات چیت متوقع ہے۔ امریکی محکمہ خارجہ کے مطابق قطری وزیراعظم کی امریکی وزیر خارجہ مارکو روبیو سے وائٹ ہاؤس میں ملاقات طے ہے، جبکہ رپورٹس کے مطابق وہ صدر ڈونلڈ ٹرمپ، نائب صدر جے ڈی وینس اور خصوصی ایلچی اسٹیو وٹکوف سے بھی ملاقات کریں گے۔

منگل کو اسرائیل نے قطر کے دارالحکومت دوحہ میں حماس کی قیادت کو نشانہ بنانے کی کوشش کی جس کی دنیا بھر میں شدید مذمت کی گئی اور خدشہ ظاہر کیا گیا کہ یہ اقدام مشرقِ وسطیٰ میں مزید کشیدگی بھڑکا سکتا ہے۔ اقوام متحدہ کی سلامتی کونسل نے بھی حملے کی مذمت کی تاہم بیان میں اسرائیل کا نام شامل نہیں کیا گیا۔

قطر طویل عرصے سے حماس اور اسرائیل کے درمیان مذاکرات میں ثالثی کا کردار ادا کر رہا ہے تاکہ جنگ بندی، یرغمالیوں کی رہائی اور جنگ کے بعد غزہ کے مستقبل پر کسی فریم ورک پر اتفاق رائے ہو سکے۔ ٹرمپ نے کہا کہ اسرائیل کا یہ فیصلہ وزیراعظم بینجمن نیتن یاہو نے کیا اور وہ اس یکطرفہ کارروائی سے خوش نہیں۔

اسرائیلی حملوں نے اکتوبر 2023 سے اب تک غزہ میں دسیوں ہزار فلسطینیوں کو ہلاک کر دیا ہے، پوری آبادی بے گھر ہوچکی ہے اور قحط کی صورتحال پیدا ہو گئی ہے۔ ماہرین کا کہنا ہے کہ یہ کارروائی نسل کشی کے مترادف ہے، تاہم اسرائیل اسے دفاعی اقدام قرار دیتا ہے۔