چیئرمین اکنامک پالیسی اینڈ بزنس ڈیولپمنٹ اور سابق نگراں وزیرِ تجارت گوہر اعجاز نے روپے کی بے قدری کی بار بار کی اپیلوں کی سخت مخالفت کرتے ہوئے کہا کہ روپے کی ڈی ویلیوایشن معاشی کامیابی نہیں دے سکتی، پاکستان کے اقتصادی چیلنجز کا حقیقی حل کرنسی کی کم قیمت پر انحصار کرنے کے بجائے برآمدات کی مسابقت بڑھانے میں مضمر ہے۔
پاکستان کے صنعتی شعبے کو بحال کرنے اور اسے عالمی منڈیوں میں مزید مسابقتی بنانے کے لیے گوہر اعجاز نے دو مرحلوں پر مشتمل اقتصادی حکمت عملی تجویز کی، جس کا مرکز توانائی اخراجات اور شرح سود میں کمی ہے۔
انہوں نے پاکستان کی اقتصادی بنیادوں کو علاقائی معیار کے مطابق لانے کی فوری ضرورت پر زور دیتے ہوئے کہا کہ ہمیں فیصلہ کن اقدامات کرنے ہوں گے تاکہ ہمارے صنعتی شعبے علاقائی سطح پر مسابقتی بن سکیں۔ یہ سب سستی توانائی اور آسان رسائی والے سرمائے کے ذریعے ممکن ہے۔
حکمت عملی کے پہلے مرحلے میں توانائی کی فی یونٹ لاگت 9 سینٹ اور شرح سود 9 فیصد تک لانے کی تجویز دی گئی، تاکہ صنعتکاروں اور برآمد کنندگان کو مہنگے قرض اور زیادہ پیداواری لاگت کے بوجھ سے فوری ریلیف مل سکے۔ دوسرے مرحلے میں توانائی کی لاگت اور شرح سود کو 6 فیصد تک لانے کی سفارش کی گئی ہے۔
گوہر اعجاز نے یاد دلایا کہ 1975 میں ایک امریکی ڈالر کے مقابلے میں روپے کی قدر 9.99 تھی، لیکن 2025 تک یہ 284 روپے تک گر گئی، جس کے باوجود ڈالر کی دستیابی بہتر نہ ہوئی اور معیشت مضبوط نہیں ہوئی۔ انہوں نے پاکستان کے سنہری صنعتی دور 1955 سے 1971 کے دوران روپے کی استحکام کی مثال دیتے ہوئے کہا کہ اس وقت روپے کی قدر 4.75 روپے پر مستحکم رہی، باوجود صنعتی ترقی کے۔
انہوں نے کہا کہ ہمارے اقتصادی ماہرین رسمی نرخ مبادلہ پر حقیقی قلت کے بہانے روپے کی قدر کم کرنے کا شور مچاتے ہیں، لیکن 50 سال میں روپے کی قدر 9.99 سے 284 تک گرنے کے باوجود ڈالر کی دستیابی میں کوئی بہتری نہیں آئی۔
گوہر اعجاز نے سوال اٹھایا کہ فیصلہ ساز کب بالآخر اقتصادی بحران کی جڑ وجوہات کو حل کریں گے اور پاکستان کو پائیدار، برآمدی بنیادوں پر نمو کے لیے مسابقتی بنانے کا جامع منصوبہ تیار کریں گے۔
انہوں نے خبردار کیا کہ روپے کی قدر کم کرنے سے نہ تو ڈالر کی دستیابی بہتر ہوگی اور نہ ہی معیشت مضبوط ہوگی، کیونکہ تقریباً تمام پیداواری اجزاء ڈالر پر مبنی ہیں۔
کاپی رائٹ بزنس ریکارڈر 2025