کاروبار اور معیشت

پنجاب میں سیلاب سے 13 لاکھ ایکڑ زرعی اراضی تباہ ہوگئی، پاکستان بزنس فورم

  • سیلاب سے زرعی شعبے کو تباہ کن دھچکا لگا ہے اور غذائی تحفظ کو خطرات لاحق ہو گئے ہیں
شائع September 10, 2025 اپ ڈیٹ September 10, 2025 01:17pm

پاکستان بزنس فورم (پی بی ایف) کے خواجہ محبوب الرحمٰن نے کہا کہ پاکستان میں اس سال شدید سیلاب نے صرف پنجاب میں ہی 13 لاکھ ایکڑ سے زائد زرعی اراضی تباہ کر دی ہے، جس سے زرعی شعبے کو تباہ کن دھچکا لگا ہے اور غذائی تحفظ کو خطرات لاحق ہو گئے ہیں۔

بزنس ریکارڈر سے گفتگو کرتے ہوئے پی بی ایف کے سربراہ نے کہا کہ رواں مالی سال کے لیے پاکستان کی زرعی پیداوار کے اہداف شدید خطرے میں ہیں، جس سے دیہی معیشتیں اور قومی غذائی تحفظ داؤ پر لگ گئے ہیں۔

خواجہ محبوب الرحمٰن نے زور دیتے ہوئے کہا اس بحران کو زرعی حکمتِ عملی میں اصلاحات کے لیے ایک وارننگ سمجھنا چاہیے۔

ان کا کہنا تھا کہ ہمیں سیلاب کو محض قدرتی آفات کے طور پر دیکھنے کے بجائے بہتر منصوبہ بندی اور انفراسٹرکچر کے ذریعے اسے وسائل کے طور پر استعمال کرنا سیکھنا ہوگا۔

فورم نے پنجاب میں حالیہ فلیش فلڈز سے ہونے والی وسیع تباہی اور سندھ کے زرعی ڈھانچے پر منڈلاتے خطرے پر تشویش کا اظہار کیا۔

صورتحال کو قومی ایمرجنسی قرار دیتے ہوئے پی بی ایف کے سربراہ نے وفاقی اور صوبائی حکومتوں سے فوری اور مربوط اقدامات اٹھانے کی اپیل کی تاکہ بحران پر قابو پایا جا سکے اور ملک کے غذائی تحفظ کو یقینی بنایا جا سکے۔

انہوں نے کہا کہ ابتدائی تخمینوں کے مطابق، صرف پنجاب میں 13 لاکھ ایکڑ سے زائد زرعی اراضی زیرِ آب آ چکی ہے، جس نے صوبے کے زرعی شعبے کو شدید دھچکا پہنچایا ہے۔

پی بی ایف کے مطابق فیصل آباد ڈویژن میں سب سے زیادہ نقصان ہوا ہے، جہاں تقریباً 3 لاکھ ایکڑ متاثر ہوا۔ گجرات اور گوجرانوالہ ڈویژن میں ہر ایک میں 2 لاکھ ایکڑ رقبہ زیرِ آب آیا، جبکہ ساہیوال ڈویژن میں 1.45 لاکھ ایکڑ، بہاولپور میں 1.3 لاکھ ایکڑ، اور لاہور ڈویژن میں 99 ہزار ایکڑ متاثر ہوا۔

اسی دوران، ملتان ڈویژن ایک نازک موڑ پر کھڑا ہے، کیونکہ سیلابی پانی ملتان، وہاڑی اور خانیوال کی دیہات میں داخل ہو رہا ہے، جس نے وسیع زرعی رقبے کو تباہ کر دیا ہے۔

انہوں نے کہا کہ فصلوں پر اثرات بھی انتہائی تشویشناک ہیں۔ ابتدائی اندازوں کے مطابق دھان کی کاشت میں 60 فیصد تک، گنے میں 30 فیصد، اور کپاس میں 35 فیصد تک نقصان ہوا ہے۔ مکئی کی فصل کو بھی نمایاں نقصان پہنچا ہے۔

یہ نقصان ملکی غذائی ذخائر پر دور رس اثرات ڈالنے والا ہے اور حکومت کو تقریباً 50 لاکھ ٹن گندم درآمد کرنا پڑ سکتی ہے تاکہ ملکی قیمتوں کو مستحکم کیا جا سکے اور قلت کو روکا جا سکے۔

خواجہ محبوب الرحمٰن نے مزید بتایا کہ فورم نے وزیرِاعظم شہباز شریف کو اپنی سفارشات پیش کر دی ہیں۔

ان میں وفاقی کابینہ کی جانب سے فوری طور پر زرعی ایمرجنسی کے نفاذ کا اعلان، پنجاب اور سندھ میں بڑے پیمانے پر نہری انفراسٹرکچر منصوبوں کا آغاز، اور چھوٹے و درمیانے درجے کے کاشتکاروں کے لیے 20 لاکھ روپے تک کے بلاسود قرضوں کی فراہمی شامل ہے۔

فورم نے مزید مطالبہ کیا کہ دریاؤں کے کناروں پر ناجائز تجاوزات کے خلاف کارروائی کی جائے، ریونیو اور آبپاشی کے محکموں کو مضبوط بنایا جائے، مقامی سطح پر پانی ذخیرہ کرنے کے نظام تیار کیے جائیں، اور ذخیرہ اندوزی و منافع خوری کو روکنے کے لیے ضلعی پرائس کنٹرول کمیٹیوں کو فعال کیا جائے۔

مزید برآں، پی بی ایف نے اقتصادی رابطہ کمیٹی (ای سی سی) پر زور دیا کہ گندم اور چاول کی درآمد کو عوامی اور نجی دونوں شعبوں کے لیے اجازت دی جائے تاکہ مارکیٹ کی قیمتوں کو مستحکم رکھا جا سکے۔

اسی دوران، پی بی ایف کے چیف آرگنائزر احمد جواد نے کہا کہ سیلاب نے نہ صرف فصلوں کو تباہ کیا ہے بلکہ مویشیوں کو بھی متاثر کیا ہے، جس سے دودھ اور انڈوں کی قیمتیں بڑھ گئی ہیں۔

انہوں نے خبردار کیا کہ اگر سیلابی پانی سندھ میں داخل ہوا تو صورتحال مزید سنگین ہو جائے گی۔

احمد جواد نے حکومت سے مطالبہ کیا کہ افغانستان سے سبزیوں کی درآمد پر عائد ڈیوٹی ختم کی جائے تاکہ قیمتوں کو قابو میں رکھنے میں مدد مل سکے۔