نیپال کے وزیرِاعظم کے پی شرما اولی نے منگل کے روز استعفیٰ دے دیا، ان کے معاون پرکاش سلول نے خبر رساں ادارے روئٹرز کو بتایا۔ یہ پیش رفت اس وقت سامنے آئی جب بدعنوانی کے خلاف مظاہرین نے غیر معینہ کرفیو کی خلاف ورزی کرتے ہوئے پولیس سے جھڑپیں کیں۔ ایک روز قبل سوشل میڈیا پر عائد پابندی کے خلاف پُرتشدد احتجاج میں 19 افراد ہلاک اور 100 سے زائد زخمی ہوگئے تھے۔

کے پی شرما اولی کی حکومت نے احتجاج کے بعد سوشل میڈیا پر عائد پابندی ختم کردی تھی، تاہم حالات مزید بگڑ گئے اور پیر کو پولیس نے مظاہرین کو پارلیمنٹ پر دھاوا بولنے سے روکنے کے لیے آنسو گیس اور ربڑ کی گولیاں استعمال کیں۔ یہ بدامنی گزشتہ کئی دہائیوں میں ہمالیائی ملک کی سب سے سنگین صورتحال قرار دی جا رہی ہے۔

کے پی شرما اولی نے منگل کو تمام سیاسی جماعتوں کا اجلاس طلب کیا اور کہا کہ تشدد قومی مفاد میں نہیں، مسائل کا حل پرامن مکالمے میں ہے۔ لیکن عوامی غصہ کم نہ ہوا۔ کٹھمنڈو میں پارلیمنٹ کے سامنے اور مختلف مقامات پر مظاہرین جمع ہو گئے۔ انہوں نے ٹائر جلائے، پولیس پر پتھراؤ کیا اور بعض سیاست دانوں کے گھروں کو آگ لگا دی۔ مقامی میڈیا کے مطابق فوجی ہیلی کاپٹروں کے ذریعے بعض وزرا کو محفوظ مقام پر منتقل کیا گیا۔

شہریوں نے بتایا کہ بھارت-نیپال سرحدی علاقوں سے سیکڑوں افراد بھی مظاہرین کی حمایت میں کٹھمنڈو کی طرف بڑھ رہے ہیں۔ مظاہروں کے باعث دارالحکومت کے ہوائی اڈے پر پروازوں کی آمد بند کردی گئی کیونکہ آگ اور دھوئیں نے فضا کو دھندلا دیا۔

مظاہرین نے کہا کہ یہ جنریشن زیڈ کی تحریک ہے، جس کا مقصد بدعنوانی سے پاک نیپال اور بہتر تعلیمی، طبی اور معاشی مواقع کا حصول ہے۔ یہ بدامنی ملک کو ایک بار پھر سیاسی غیر یقینی کی کیفیت میں دھکیل چکی ہے۔