سیلاب کی تباہ کاریوں کے اثرات آنا شروع ہوگئے ، رواں ماہ ستمبر کے پہلے ہفتے میں ہی مہنگائی کی شرح 1 اعشاریہ 29 فیصد بڑھ گئی۔

ٹماٹر کی قیمتوں میں ہفتہ وار بنیاد پر 46 فیصد تک اضافہ ہوا کیونکہ سیلاب کے دوران اس کی فصل کو شدید نقصان پہنچا یا سپلائی میں رکاوٹیں آئیں۔

ٹماٹر کی قیمتیں ہفتہ وار بنیاد پر 46.03 فیصد اور سالانہ بنیاد پر 83.45 فیصد تک بڑھ گئیں، کیونکہ پنجاب اور خیبر پختونخوا میں غیر معمولی بارشوں اور شدید سیلاب کی وجہ سے ٹماٹر کی فصل شدید متاثر ہوئی ہے۔

ہفتہ وار بنیاد پر گندم کے آٹے کی قیمت میں 25.41 فیصد، پیاز میں 8.57 فیصد، باسمتی بریکنڈ چاول میں 2.62 فیصد، لہسن میں 2.04 فیصد، آلو میں 1.38 فیصد، مونگ دال میں 1.29 فیصد، روٹی میں 1.19 فیصد، ایل پی جی میں 0.88 فیصد، شرٹنگ میں 0.27 فیصد، لانگ کلاتھ میں 0.17 فیصد اور لان پرنٹ میں 0.07 فیصد اضافہ ہوا۔

دوسری جانب کیلے کی قیمت میں 3.86 فیصد، ڈیزل میں 0.91 فیصد، چینی میں 0.13 فیصد اور سرسوں کے تیل میں 0.10 فیصد کمی دیکھی گئی۔

حالیہ ہفتے میں 23 اشیائے ضروریہ کی قیمتوں میں اضافہ ہوا اور 4 کی قیمتوں میں کمی جب کہ24 اشیائے ضروریہ کی قیمتوں میں استحکام رہا۔

سالانہ بنیاد پر مہنگائی بڑھنے کی شرح 5.07 فیصد ریکارڈ کی گئی۔ ٹماٹروں کے علاوہ نمایاں اضافہ خواتین کے سینڈل کی قیمت میں 55.62 فیصد، گندم کے آٹے میں 30.27 فیصد، پہلے سہ ماہی کے لیے گیس چارجز میں 29.85 فیصد، چینی میں 27.43 فیصد، گڑ میں 13.21 فیصد، بیف میں 13.15 فیصد، مونگ دال میں 12.99 فیصد، لکڑی میں 11.47 فیصد، ویجیٹبیل گھی (2.5 کلو) میں 11.36 فیصد، چکن میں 10.89 فیصد اور لان پرنٹ میں 7.72 فیصد دیکھنے میں آیا۔

دوسری جانب نمایاں کمی پیاز میں 47 فیصد، لہسن میں 25.50 فیصد، ماش کی دال میں 22.93 فیصد، آلو میں 19.25 فیصد، چنے کی دال میں 19.04 فیصد، پہلی سہ ماہی کے لیے بجلی کے چارجز میں 18.12 فیصد، ٹی لیپٹن میں 17.93 فیصد، مسور دال میں 6.07 فیصد، آئی آر آر آئی 6 اور 9 چاول میں 4.60 فیصد اور ایل پی جی میں 3.71 فیصد دیکھی گئی۔

اعدادوشمار میں بتایا گیا ہے کہ حالیہ ہفتے کے دوران حساس قیمتوں کے اشاروں کے مطابق سالانہ بنیادوں پر 17 ہزار 732روپے ماہانہ تک آمدنی رکھنے والے طبقے کے لیے ایس پی آئی پچھلے ہفتے کے 321.28 پوائنٹس سے 2.01 فیصد اضافے کے ساتھ 327.73 پوائنٹس پر پہنچ گیا۔

17,732 سے 22,888 روپے والے گروپ میں ایس پی آئی 320.58 پوائنٹس سے بڑھ کر 326.67 پوائنٹس ہو گیا، یعنی 1.90 فیصد اضافہ۔ 22,889 سے 29,517 روپے والے گروپ میں ایس پی آئی 343.84 پوائنٹس سے بڑھ کر 349.39 پوائنٹس، یعنی 1.61 فیصد اضافہ ہوا۔ 29,518 سے 44,175 روپے گروپ والے میں ایس پی آئی331.69 پوائنٹس سے بڑھ کر 336.59 پوائنٹس، یعنی 1.48 فیصد اضافہ درج ہوا۔ 44,175 روپے سے زائد ماہانہ خرچ والے گروپ میں ایس پی آئی 330.28 پوائنٹس سے بڑھ کر 333.56 پوائنٹس، یعنی 0.99 فیصد اضافہ ہوا۔ مجموعی طور پر تمام گروپس کا مشترکہ ایس پی آءٰ 331.14 پوائنٹس سے بڑھ کر 335.41 پوائنٹس ہو گیا، جو کہ 1.29 فیصد اضافے کے برابر ہے۔

کاپی رائٹ بزنس ریکارڈر 2025