بھارتی بجٹ ایئرلائن اسپائس جیٹ کو اپریل تا جون سہ ماہی میں مسلسل دوسرے خسارے کا سامنا کرنا پڑا، جب کہ بھارت اور پاکستان کے درمیان دہائیوں کے بدترین کشیدگی کے دوران بعض روٹس پر تفریحی سفر کی طلب میں شدید کمی دیکھی گئی ہے۔

ایئرلائن نے اس عرصے میں 2.35 ارب بھارتی روپے (26.6 ملین ڈالر) کے خسارے کی اطلاع دی ہے، جب کہ گزشتہ سال اسی مدت میں اسے 1.5 ارب روپے کا منافع حاصل ہوا تھا۔

بھارت اور پاکستان کے تعلقات اس وقت بگڑ گئے تھے جب اپریل میں مقبوضہ کشمیر میں ہونے والے حملے کا الزام نئی دہلی نے اسلام آباد پر عائد کیا، جس کے نتیجے میں شمال مغربی بھارت کے کئی ہوائی اڈے بند اور پاکستانی فضائی حدود بھارتی طیاروں کے لیے معطل کر دی گئی۔ پاکستان نے حملے میں کسی بھی قسم کے ملوث ہونے کی تردید کی ہے۔

ایئرلائن کی سہ ماہی آمدنی تقریباً 35 فیصد کم ہو کر 11.06 ارب بھارتی روپے پر آ گئی۔

اسپائس جیٹ کا یہ بھی کہنا ہے کہ گراؤنڈ کیے گئے طیاروں کی سروس میں واپسی میں تاخیر نے اس کے مسائل میں مزید اضافہ کیا۔

گزشتہ چند برسوں میں اسپائس جیٹ نے لینڈرز اور دیگر فریقوں کے ساتھ تصفیہ معاہدے تو کیے ہیں، تاہم وہ اب بھی اپنی استعداد (کیپسٹی) بڑھانے میں مشکلات کا شکار ہے۔

مارچ کے اختتام تک اسپائس جیٹ کے صرف 25 طیارے فعال تھے، جو اس کے 61 جہازوں پر مشتمل بیڑے کا آدھے سے بھی کم ہیں۔

آپریٹنگ پیمانے میں اس محدودیت نے بھارت کی نئی ایئرلائنز میں سے ایک، ”آکاسا“ کو موقع دیا کہ وہ مارکیٹ شیئر میں اسپائس جیٹ کو پیچھے چھوڑ کر بھارت کی تیسری بڑی ایئرلائن بن جائے۔ آکاسا کا مارکیٹ شیئر 5.5 فیصد جبکہ اسپائس جیٹ کا محض 2 فیصد رہ گیا ہے — حالانکہ بھارت دنیا کی تیسری سب سے بڑی ہوابازی مارکیٹ ہے۔

کمپنی کے مطابق، اسپائس جیٹ کی خالص مالیت (نیٹ ورتھ) رواں مالی سال کی پہلی سہ ماہی میں بہتری کے بعد مثبت 4.46 ارب بھارتی روپے ہو گئی، جو گزشتہ سال اسی عرصے میں منفی 23.98 ارب روپے تھی۔

(نوٹ: 1 امریکی ڈالر = 88.2591 بھارتی روپے)