چین کے صدر شی جن پنگ نے بدھ کو بیجنگ میں دوسری جنگ عظیم کے خاتمے کی 80ویں سالگرہ کی فوجی پریڈ میں اپنی سفارتی قوت کا بھرپور مظاہرہ کیا، جہاں ان کے ساتھ روسی صدر ولادیمیر پیوٹن اور شمالی کوریا کے رہنما کم جونگ اُن بھی موجود تھے۔ یہ منظر شی جن پنگ کی بڑھتی ہوئی عالمی حیثیت اور خطے میں ان کے اتحاد کو اجاگر کرتا ہے۔
پریڈ سے قبل شی جن پنگ نے بھارتی وزیراعظم نریندر مودی سے شنگھائی تعاون تنظیم کے اجلاس میں ملاقات کی جبکہ اس سے کچھ روز قبل وہ نایاب دورے پر تبت بھی گئے تھے۔ تجزیہ کاروں کے مطابق شی جن پنگ نے ملکی معاشی سست روی سے توجہ ہٹانے کے لیے قوم پرستی اور سفارت کاری کو مرکزی حیثیت دی ہے۔
شی اور پیوٹن کی ایک گفتگو میں انسانی عمر اور اعضا کی پیوندکاری کا ذکر بھی خبروں کی زینت بنا۔ ماہرین کے مطابق یہ مصروف سفارت کاری چین کو ترقی پذیر ممالک کے لیے ایک مستحکم شراکت دار کے طور پر پیش کرتی ہے، خاص طور پر ان ممالک کے سامنے جو امریکی ٹیرف اور پابندیوں سے متاثر ہیں۔
اگرچہ چین کو اپنے اتحادیوں کے اندرونی اختلافات، بھارت کے ساتھ کشیدگی اور صنعتی سبسڈیز جیسے مسائل کا سامنا ہے، تاہم شی جن پنگ 2027 میں چوتھی مدت کے لیے راہ ہموار کرتے دکھائی دے رہے ہیں، اور خود کو ماو زے تنگ کے بعد سب سے طاقتور چینی رہنما کے طور پر منوا رہے ہیں۔