انٹربینک مارکیٹ جمعہ کو بھی ڈالر کے مقابلے روپے کی قدر میں بہتری کا سلسلہ جاری رہا ۔

کاروبار کے اختتام پر ڈالر کے مقابلے روپیہ 0.01 فیصد یا 2 پیسے کی بہتری سے 281.65 پر آگیا۔

یاد رہے کہ جمعرات کو مقامی کرنسی 281.67 پر بند ہوئی تھی۔

بین الاقوامی سطح پر جمعہ کو امریکی ڈالر زیادہ تر مستحکم رہا کیونکہ بانڈ مارکیٹ میں استحکام آیا اور تاجروں نے امریکی جابز کے اہم اعداد و شمار کا انتظار کیا جو فیڈرل ریزرو کی جانب سے شرحِ سود میں کٹوتی کے امکان کو مضبوط بنا سکتے ہیں۔

جمعرات کو امریکی اوقات میں ڈالر معمولی سا بڑھا اور معمولی تجارت کے دوران مسلسل دوسرے ہفتے کے اضافے کی طرف گامزن رہا کیونکہ سرمایہ کار روزگار کے اعدادوشمار سے قبل بڑے فیصلوں سے گریزاں رہے۔

جمعرات کو جاری ہونے والے اعداد و شمار میں امریکہ میں بے روزگاری الاؤنس کی توقع سے زیادہ درخواستیں سامنے آئیں جو اس ماہ فیڈرل ریزرو کی پالیسی کے فیصلے پر اثرانداز ہونے والی اہم نان فارم پے رولز رپورٹ سے قبل ایک پیش خیمہ ثابت ہوئیں۔

امریکہ، یورپ اور جاپان میں بانڈز کی قدر میں اضافہ ہوا کیونکہ مالیاتی خدشات نے طویل المدتی منافع کی شرح میں اضافہ کر دیا۔ اسی دوران جاپان کے چیف تجارتی مذاکرات کار نے امریکہ کے ساتھ طے پانے والے مستحکم تجارتی معاہدے کی تفصیلات بیان کیں جس کے بعد ین کی قدر میں معمولی بہتری آئی۔

اسٹیٹ اسٹریٹ کے ٹوکیو برانچ منیجر بارٹ واکابایاشی کے مطابق امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کی فیڈ پالیسی میں مداخلت اور ان کے غیر متوقع ٹیرف اقدامات نے حالیہ دنوں میں سرمایہ کاروں کو ڈالر اثاثوں کو رکھنے سے گریزاں کردیا ہے۔

ڈالر انڈیکس معمولی تبدیلی کے ساتھ 98.207 پر رہا اور اس ہفتے کے لیے 0.4 فیصد اضافے کی راہ پر ہے۔

گرین بیک 0.2 فیصد کمی کے ساتھ 148.22 ین پر آگیا جبکہ یورو 0.1 فیصد بڑھ کر دن کے دوران 1.1656 ڈالر پر پہنچ گیا۔

یہ انٹرا ڈے اپڈیٹ ہے