کاروبار اور معیشت

اسٹاک ایکسچینج میں پھر نیا ریکارڈ،100 انڈیکس ایک لاکھ 54 ہزار کی بلند سطح بھی عبور کرگیا

  • بینچ مارک کے ایس ای 100 انڈیکس میں دوسرے ٹریڈنگ سیشن کے دوران 1500 پوائنٹس سے زائد کا اضافہ دیکھا گیا
شائع September 5, 2025 اپ ڈیٹ September 5, 2025 08:19pm

پاکستان اسٹاک ایکسچینج (پی ایس ایکس) میں جمعہ کو بھی ریکارڈ توڑ تیزی کا سلسلہ جاری رہا، جہاں معیشت کے مختلف شعبوں سے متعلق مثبت اعداد و شمار نے سرمایہ کاروں کے اعتماد کو تقویت دی۔ نتیجتاً، کے ایس ای 100 انڈیکس نے تاریخ میں پہلی بار 1,54,000 کی سطح عبور کی۔

کاروباری روز کے دوران مارکیٹ میں مسلسل مثبت رجحان برقرار رہا، اور انڈیکس دن کی بلند ترین سطح پر 154,511.31 پوائنٹس تک جا پہنچا۔

کاروبار کے اختتام پر کے ایس ای 100 انڈیکس 1,611.47 پوائنٹس (1.06فیصد) کے نمایاں اضافے کے ساتھ 154,277.19 پوائنٹس پر بند ہوا۔

ماہرین کا کہنا ہے کہ پاکستان اسٹاک ایکسچینج میں حالیہ خریداری کی لہر کی بنیاد مثبت معاشی اشاریوں اور کارپوریٹ منافع جات میں بہتری پر ہے۔

بیجنگ میں جمعرات کو منعقدہ دوسری پاک چین بی ٹو بی انویسٹمنٹ کانفرنس کے دوران چین اور پاکستان کی کمپنیوں کے درمیان 7 ارب ڈالر مالیت کی مفاہمتی یادداشتوں اور 1.54 ارب ڈالر کے مشترکہ منصوبوں (جوائنٹ وینچرز) پر دستخط کیے گئے ہیں۔ ان معاہدوں کا دائرہ زراعت، الیکٹرک گاڑیوں، شمسی توانائی اور اسٹیل جیسے شعبوں تک پھیلا ہوا ہے۔

امرین سورانی، ہیڈ آف ریسرچ، المیزان انویسٹمنٹس، نے بزنس ریکارڈر سے گفتگو میں بتایا کہ ”مارکیٹ رواں کیلنڈر سال میں 30 فیصد اور گزشتہ دو سال میں تقریباً چار گنا بڑھ چکی ہے۔“

انہوں نے بتایا کہ اس حالیہ تیزی کے بعد مارکیٹ کا پرائس ٹو ارننگ (پی/ای) تناسب تقریباً 7 گنا تک آ گیا ہے، جو اب بھی تاریخی اوسط 8 گنا سے کم ہے۔“انہوں نے مزید بتایا کہ موجودہ بنیادیں (معاشی، کاروباری اور مالیاتی عوامل) مضبوط ہیں اور آئندہ مہینوں میں کارپوریٹ منافع میں 8 سے 10 فیصد اضافہ اور تقریباً 8 فیصد ڈیویڈنڈ یِیلڈ متوقع ہے، جس کے باعث مارکیٹ کا مجموعی منظرنامہ مثبت ہے۔

تاہم، انہوں نے خبردار کیا کہ ”اگر معاشی حالات بگڑتے ہیں یا ماحولیاتی عوامل (کلائمیٹ ایونٹس) شدت اختیار کرتے ہیں، تو یہ منافع کی شرح اور سرمایہ کاروں کے اعتماد دونوں کو متاثر کر سکتے ہیں۔“

جمعرات کو بھی پی ایس ایکس نے تیزی کا سلسلہ جاری رکھا اور ایک ریکارڈ ساز سیشن میں بینچ مارک کے ایس ای-100 انڈیکس 463.85 پوائنٹس یا 0.3 فیصد اضافے کے بعد 152,665.72 پوائنٹس کی بلند ترین سطح پر بند ہوا۔

عالمی سطح پر جمعہ کو ایشیائی اسٹاکس نے وال اسٹریٹ کے ریکارڈ اضافے کا عکس پیش کیا جبکہ ٹریژری ییلڈز چار ماہ کی کم ترین سطح پر آگئیں کیونکہ سرمایہ کاروں نے امریکی فیڈرل ریزرو کی جانب سے اس ماہ شرح سود میں کمی کے امکانات کو مستحکم کرلیا ہے، حالانکہ اہم امریکی روزگار کے اعداد و شمار ابھی آنا باقی ہیں۔

مارکیٹ کے تقریباً یقینی اندازے کے مطابق 17 ستمبر کو فیڈ کے دو روزہ اجلاس کے اختتام پر پالیسی ریٹ میں ایک چوتھائی پوائنٹ کمی ہوگی، جبکہ رواں سال کے دوران مجموعی طور پر 60 بیسس پوائنٹس کی کمی کو قیمتوں میں شامل کرلیا گیا ہے۔

زیادہ نرم مالیاتی ماحول کی توقعات نے عالمی ایکویٹیز کو سہارا دیا ہے، اور ایس اینڈ پی 500 انڈیکس جمعرات کو 0.8 فیصد بڑھ کر نئی بلند ترین سطح پر بند ہوا۔

نیسڈیک انڈیکس ایک فیصد بڑھا اور 13 اگست کی اپنی بلند ترین سطح کے قریب پہنچ گیا۔

ایس اینڈ پی 500 فیوچرز جمعہ کو 0.1 فیصد اوپر جبکہ نیسڈیک فیوچرز 0.3 فیصد اوپر رہے۔

جاپان کا نکئی 0.8 فیصد بڑھا اور تائیوان کا اسٹاک بینچ مارک بھی 0.8 فیصد اوپر گیا۔ دونوں مارکیٹیں حالیہ ریکارڈ کی سطح کے قریب ہیں۔

ہانگ کانگ کا ہینگ سینگ اور مین لینڈ چین کے بلیو چپ انڈیکسز میں بھی تقریباً 0.4 فیصد اضافہ ہوا۔

آسٹریلوی اسٹاکس 0.3 فیصد بڑھے۔

دریں اثناء انٹربینک مارکیٹ میں پاکستانی روپے نے جمعہ کو اپنی مثبت رفتار برقرار رکھی اور امریکی ڈالر کے مقابلے میں 0.01 فیصد بہتری کے ساتھ 281.65 پر بند ہوا، جس کے نتیجے میں روپے کی قدر میں دو پیسے کا اضافہ ریکارڈ کیا گیا۔ یہ مسلسل اکیسواں روز تھا جب روپے نے ڈالر کے مقابلے میں بہتری ظاہر کی۔

تمام حصص پر مشتمل انڈیکس کا کاروباری حجم گزشتہ روز کے 954.33 ملین شیئرز سے بڑھ کر 1,078.41 ملین شیئرز تک پہنچ گیا، جبکہ حصص کی مجموعی مالیت 59.95 ارب روپے رہی، جو پچھلے سیشن میں 46.05 ارب روپے تھی۔

بینک آف پنجاب 146.09 ملین شیئرز کے ساتھ سرفہرست رہا، فرسٹ نیشنل ایکویٹیز 55.75 ملین شیئرز کے ساتھ دوسرے جبکہ فوجی فوڈز لمیٹڈ 50.94 ملین شیئرز کے ساتھ تیسرے نمبر پر رہا۔

ستارہ کیمیکل انڈسٹریز لمیٹڈ کے حصص میں 79.77 روپے کا اضافہ ہوا اوریہ 877.47 روپے پر بند ہوئے جبکہ سیمنز (پاکستان) انجینئرنگ کے حصص کی قیمت میں 50.17 روپے اضافہ ہوا اور یہ 1,603.17 روپے پر بند ہوئے۔

پی آئی اے ہولڈنگ کمپنی لمیٹڈ-B کے حصص 834.67 روپے کی کمی کے ساتھ 25,506.00 روپے پر بند ہوئے جبکہ ہوئسٹ پاکستان لمیٹڈ کے حصص میں 96.79 روپے کی کمی ہوئی اور اختتامی قیمت 4,004.48 روپے رہی۔

کاروباری دن کے دوران 479 کمپنیوں کے حصص کا لین دین ہوا، جن میں 239 کمپنیوں کے حصص کی قیمت میں اضافہ، 210 کے حصص کی قیمت میں کمی جبکہ 30 کمپنیوں کے حصص کی قیمت میں کوئی تبدیلی نہیں ہوئی۔