پاکستان کے شورش زدہ شمال مغربی سرحدی علاقے میں بدھ کو مسلح افراد نے ایک گاڑی پر فائرنگ کر دی جس کے نتیجے میں چھ شہری جاں بحق ہو گئے۔
مقامی حکام نے اے ایف پی کو بتایا یہ حملہ کرم ضلع میں ہوا، جو افغانستان کی سرحد سے متصل ہے اور جہاں سنی اور شیعہ برادریوں کے درمیان فرقہ وارانہ تشدد بھڑکتا رہا ہے۔
مقامی انتظامی افسر عامر نواز خان نے کہا کہآج صبح مسلح افراد نے پارا چمکنی کے سنی کمیونٹی سے تعلق رکھنے والے ایک شخص کی گاڑی کو نشانہ بنایا۔ گاڑی میں موجود چھ افراد جاں بحق ہو گئے۔
کرم کے ایک اور سرکاری افسر، جنہوں نے نام ظاہر نہ کرنے کی شرط پر بات کی، نے حملے کی تصدیق کی اور کہا کہ یہ واقعہ ایک شیعہ اکثریتی علاقے میں پیش آیا۔
بعد ازاں ریجنل پولیس آفیسر کوہاٹ، عباس مجید مروت نے کہا کہ سرچ آپریشن شروع کیا گیا جس کے دوران 12 افراد کو حراست میں لیا گیا۔ انہوں نے مزید کہا کہ آپریشن کے دوران بڑی مقدار میں اسلحہ بھی برآمد ہوا ہے۔
کرم طویل عرصے سے سنی شیعہ تشدد کا شکار رہا ہے۔
مقامی حکام کے مطابق جولائی سے اب تک جھڑپوں کے تازہ سلسلے میں تقریباً 250 افراد جاں بحق ہو چکے ہیں۔
پاکستان کمیشن برائے انسانی حقوق، جو ملک کی سب سے بڑی انسانی حقوق کی غیر سرکاری تنظیم ہے، نے اس واقعے کی فوری اور غیر جانبدارانہ تحقیقات کا مطالبہ کیا اور کرم کی صورتحال کو انسانی بحران قرار دیا۔
خیبر پختونخوا کی حکومت اور قبائلی رہنما لڑنے والی برادریوں کے درمیان متعدد جنگ بندیوں کا اعلان کر چکے ہیں، لیکن کوئی بھی تشدد روکنے میں کامیاب نہیں ہو سکا، کیونکہ زمین کے تنازعات پر جھگڑے بار بار بھڑک اٹھتے ہیں۔
جنوری میں، علاقے میں خوراک لے جانے والے قافلے پر گھات لگا کر کیے گئے ایک حملے میں 10 افراد جاں بحق ہو گئے تھے۔