روسی صدر ولادیمیر پیوٹن اتوار کے روز شمالی چین کے بندرگاہی شہر تیانجن پہنچ گئے جہاں وہ شنگھائی تعاون تنظیم (ایس سی او) کے سربراہی اجلاس میں شرکت کریں گے۔ چین اور روس کے سرکاری میڈیا کے مطابق، پیوٹن کا چار روزہ دورہ ایک غیر معمولی دورہ ہے، جس کے دوران انہیں ریڈ کارپٹ استقبال اور اعلیٰ حکام کی جانب سے خوش آمدید کہا گیا۔
چینی نشریاتی ادارے سی سی ٹی وی کے مطابق، چین اور روس کے تعلقات تاریخ کی بہترین سطح پر ہیں اور انہیں بڑے ممالک کے درمیان سب سے مستحکم، اور اسٹریٹجک طور پر اہم تعلقات قرار دیا گیا ہے۔ اجلاس میں چینی صدر شی جن پنگ تقریباً 20 عالمی رہنماؤں کی میزبانی کریں گے جن میں بھارتی وزیر اعظم نریندر مودی بھی شامل ہوں گے۔
شنگھائی تعاون تنظیم 2001 میں چھ یوریشیائی ممالک کے ساتھ قائم ہوئی تھی، جو اب 10 مستقل رکن ممالک اور 16 مبصر و مکالماتی شراکت داروں تک پھیل چکی ہے۔ اس کا دائرہ کار انسداد دہشت گردی سے بڑھ کر معاشی اور عسکری تعاون تک وسیع ہو چکا ہے۔
تجزیہ کاروں کے مطابق، شی جن پنگ اس اجلاس کو امریکی غلبے کے بعد کے عالمی نظام کی جھلک دکھانے کے لیے استعمال کریں گے، جبکہ روس کے لیے یہ اجلاس ایک اہم سفارتی سہارا فراہم کرے گا، جو یوکرین پر حملے کے باعث مغربی پابندیوں کا سامنا کر رہا ہے۔