وفاقی وزیر برائے پیٹرولیم علی پرویز ملک نے جمعرات کے روز جاپان بینک فار انٹرنیشنل کوآپریشن (جے بی آئی سی) کی جانب سے پاکستان کے نمایاں ریکوڈک مائننگ منصوبے میں دلچسپی کو خوش آئند قرار دیتے ہوئے اسے معدنیات اور توانائی کے شعبوں میں دوطرفہ تعاون کو مضبوط بنانے کے لیے ایک اہم موقع قرار دیا ہے۔
یہ پیش رفت اسلام آباد میں وزیرِ پیٹرولیم سے جے بی آئی سی کے وفد کی ملاقات کے دوران سامنے آئی ہے، جس کی قیادت تارو کاٹو، ڈائریکٹر جنرل برائے مائننگ اینڈ میٹلز فنانس، نے کی۔ وزارت کے اعلامیے کے مطابق ملاقات میں سرمایہ کاری کے امکانات اور مشترکہ دلچسپی کے شعبوں پر تبادلہ خیال کیا گیا۔
وزیرِ پیٹرولیم علی پرویز ملک نے پاکستان کی معیشت پر جاپان کے اعتماد کو سراہتے ہوئے کہا کہ معدنیات کا شعبہ نمایاں ترقی کر رہا ہے اور ہم اسے معیشت کی بنیاد بنانے کے لیے پُرعزم ہیں۔
وزیرِ پیٹرولیم علی پرویز ملک نے وفد کو یقین دہانی کرائی کہ حکومتِ پاکستان، وفاقی اور صوبائی دونوں سطحوں پر، ریکوڈک منصوبے کو غیر مشروط تعاون فراہم کرے گی اور یہ منصوبہ ملک میں ذمہ دارانہ اور پائیدار مائننگ کے لیے نئے معیارات قائم کرے گا۔
انہوں نے مزید کہا کہ حکومت کی جامع حکمتِ عملی کا مقصد مائننگ فریم ورک کو ہم آہنگ بنانا اور سرمایہ کاری کے عمل کو آسان بنانا ہے تاکہ پاکستان کو عالمی سرمایہ اور مہارت کے لیے ایک ترجیحی منزل کے طور پر پیش کیا جا سکے۔
اس موقع پر گفتگو کرتے ہوئے تارو کاٹو نے کہا کہ جاپان بینک فار انٹرنیشنل کوآپریشن (جے بی آئی سی) کو جاپانی سرمایہ کاروں کی جانب سے پاکستانی منڈیوں میں بڑھتی ہوئی دلچسپی دکھائی دے رہی ہے۔ انہوں نے نہ صرف مائننگ بلکہ وسیع تر توانائی کے شعبے میں بھی تعاون کو فروغ دینے میں گہری دلچسپی کا اظہار کیا۔
کینچیرو کیتامورا، جو جاپان بینک فار انٹرنیشنل کوآپریشن (جے بی آئی سی ) کے مشرقِ وسطیٰ کے لیے چیف ریپریزنٹیٹو ہیں، نے کہا کہایسی اعلیٰ سطح کی ملاقاتیں جاپانی سرمایہ کاروں کی پاکستان سے متعلق رائے بہتر بنانے، اعتماد قائم کرنے اور دو طرفہ مفاد پر مبنی شراکت داری کے لیے راہ ہموار کرنے میں مددگار ثابت ہوں گی۔
ملاقات کے اختتام پر دونوں فریقین نے اس عزم کا اظہار کیا کہ وہ مستقبل میں بھی قریبی تعاون جاری رکھیں گے تاکہ پاکستان کے قدرتی وسائل کی صلاحیت کو بروئے کار لانے کے لیے جاپان کی مالی اور تکنیکی مہارت سے فائدہ اٹھایا جا سکے۔