وزیرِاعظم شہباز شریف نے جمعرات کے روز کہا ہے کہ ملک میں اچانک سیلاب کے تباہ کن اثرات کو کم کرنے اور جانی و معاشی تحفظ کے لیے مزید آبی ذخائر کی فوری تعمیر ضروری ہے۔
پاکستان کئی ہفتوں سے مون سون بارشوں کا سامنا کر رہا ہے، جس کے باعث پنجاب میں 2 لاکھ 10 ہزار سے زائد افراد بے گھر ہو چکے ہیں، جن میں سے 40 ہزار افراد نے 14 اگست سے جاری سیلاب کی وارننگز کے بعد خود رضاکارانہ طور پر اپنے گھروں سے نکلنے کا فیصلہ کیا۔
ملک میں مون سون کے آغاز سے لے کر جمعرات تک سیلاب کے باعث جاں بحق ہونے والوں کی سرکاری تعداد 819 ہے، جن میں سے آدھے کا تعلق اگست کے مہینے سے ہے۔
وزیر اعظم کے دفترِ سے جاری بیان میں بتایا گیا ہے کہ سیلاب کی صورتحال کا جائزہ لینے کے لیے اعلیٰ سطح کے اجلاس سے خطاب میں وزیرِاعظم نے پانی ذخیرہ (ڈیم) کرنے کی گنجائش بڑھانے کی اہمیت پر زور دیتے ہوئے فوری کام شروع کرنے کی ہدایت کی ہے۔
انہوں نے کہا کہ (پانی) ذخیرہ کرنے کی صلاحیت وقت کی سب سے بڑی ضرورت ہے، اور مزید وقت ضائع کیے بغیر ہمیں اس کام کا آغاز کرنا چاہیے۔
وزیرِاعظم شہباز شریف نے ملک بھر میں ڈیموں اور آبی ذخائر کی تعمیر کے لیے وسائل پیدا کرنے کی اہمیت پر زور دیتے ہوئے کہا کہ “ہمیں یہ وسائل خود پیدا کرنے ہوں گے۔
وزیرِاعظم نے دیامر بھاشا ڈیم سمیت جاری منصوبوں کی فوری تکمیل پر زور دیا تاکہ مستقبل میں ممکنہ آفات سے بچاؤ یقینی بنایا جا سکے۔
انہوں نے کہا کہ سیلاب کا آغاز شمالی علاقوں سے ہوا، تاہم اب یہ پنجاب کے میدانی علاقوں میں بھی تباہی مچا رہا ہے۔ انہوں نے سیلاب اور موسلا دھار بارشوں کے باعث جاں بحق ہونے والوں کے لیے دعا بھی کی۔
وزیرِاعظم نے امدادی کارروائیوں کے دوران بھرپور خدمات پر وزیراعلیٰ پنجاب مریم نواز، نیشنل ڈیزاسٹر مینجمنٹ اتھارٹی (این ڈی ایم اے)، پاک فوج اور متعلقہ سول اداروں کی مربوط کاوشوں کو سراہا۔ انہوں نے کہا کہ پنجاب حکومت اور متعلقہ اداروں کے درمیان اس ہم آہنگی نے نقصانات کو کم کرنے میں مدد دی ہے۔
وزیرِاعظم شہباز شریف نے 2022 کے تباہ کن سیلابوں کو یاد کرتے ہوئے خبردار کیا کہ جنہوں نے بنیادی طور پر سندھ اور بلوچستان کو متاثر کیا تھا، پاکستان اب بھی ماحولیاتی تبدیلی سے سب سے زیادہ متاثر ہونے والے دس ممالک میں شامل ہے، جس کے باعث اس نوعیت کی آفات آئندہ برسوں میں بار بار پیش آ سکتی ہیں۔ انہوں نے تمام متعلقہ اداروں پر زور دیا کہ وہ اپنی تیاریوں کو مزید مؤثر بنائیں اور مستقبل کے چیلنجز سے نمٹنے کے لیے قلیل، وسط اور طویل المدتی حکمتِ عملیوں کو مؤثر فیصلوں کے ذریعے اپنائیں۔
وزیراعلیٰ پنجاب مریم نواز نے سیلاب کے باعث ہونے والے جانی نقصان، فصلوں اور انفرااسٹرکچر کو پہنچنے والے نقصان پر گہرے رنج و غم کا اظہار کیا۔ انہوں نے اس بات پر زور دیا کہ کسی بھی موت کی وجہ غفلت یا ادارہ جاتی عدم ہم آہنگی نہیں بنی۔
مریم نواز نے این ڈی ایم اے، پی ڈی ایم اے، پولیس، سول ڈیفنس اور پاک فوج کی جانب سے 50 ہزار سے زائد افراد کو ریسکیو کرنے اور بروقت انخلا کو کامیابی سے ممکن بنانے پر ان کی کارکردگی کو سراہا۔ انہوں نے بتایا کہ موثر ابتدائی وارننگ سسٹم کے باعث مویشیوں کا نقصان بھی نہایت کم رہا۔
انہوں نے گوردوارہ کے کچھ حصوں میں مکمل پانی بھر جانے پر فوری نکاسیِ آب کی ہدایت جاری کی۔
وزیراعلیٰ نے بتایا کہ فیلڈ اسپتال فعال کرنے کے احکامات جاری کیے جا چکے ہیں، جبکہ ایک ہزار موبائل کلینکس کو بھی متاثرہ علاقوں کی جانب منتقل کر دیا گیا ہے۔
انہوں نے یہ بھی ہدایت دی کہ ویکسین کا وافر ذخیرہ یقینی بنایا جائے اور امدادی سرگرمیوں میں خواتین، بچوں اور بزرگوں جیسے کمزور طبقات کو ترجیح دی جائے۔
مزید برآں، انہوں نے بتایا کہ تقریباً 200 کلومیٹر سڑکیں متاثر ہوئی ہیں اور ہدایت دی کہ عارضی راستوں کی فوری بحالی یقینی بنائی جائے تاکہ آمدورفت کا نظام برقرار رکھا جا سکے۔
وزیراعلیٰ پنجاب مریم نواز نے ایک بار پھر اس بات کی ضرورت پر زور دیا کہ زیادہ سے زیادہ پانی محفوظ کرنے اور ضیاع کم سے کم کرنے کے لیے بنیادی ڈھانچے کی تعمیر ناگزیر ہے۔ انہوں نے طویل المدتی بحالی منصوبوں پر عمل درآمد کی اہمیت کو بھی اجاگر کیا۔
وفاقی وزیر منصوبہ بندی احسن اقبال نے ماحولیاتی تبدیلی پر تشویش کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ اگر قدرتی آفات سے نمٹنے کے نظام میں موجود خامیوں کی نشاندہی اور بروقت اصلاح کی جائے تو اس چیلنج پر قابو پایا جا سکتا ہے۔ انہوں نے اس امر کی نشاندہی کی کہ اگرچہ پاکستان کو شدید نقصان اٹھانا پڑا، لیکن ہمسایہ ملک بھارت کو نسبتاً کم نقصان پہنچا، جس کی بڑی وجہ اس کا مضبوط انفراسٹرکچر ہے۔
احسن اقبال نے کہا کہ کئی دیہات کی بیرونی دنیا سے رسائی مکمل طور پر منقطع ہو چکی ہے، اور آئندہ دنوں میں بلڈوزرز اور بھاری مشینری کی مدد سے راستے بحال کرنے اور طبی سہولتوں کی فراہمی یقینی بنانے کی ضرورت ہو گی۔
انہوں نے بحالی کی کوششوں پر زور دیتے ہوئے زرعی بینکوں سے اپیل کی کہ وہ متاثرہ کسانوں کو آسان شرائط پر قرضے فراہم کریں تاکہ وہ دوبارہ اپنے پیروں پر کھڑے ہو سکیں اور خودانحصاری حاصل کر سکیں۔
قبل ازیں، چیئرمین این ڈی ایم اے لیفٹیننٹ جنرل انعام حیدر نے پنجاب میں سیلاب کی مجموعی صورتحال پر تفصیلی بریفنگ دی۔