بیجنگ میں دوسری جنگ عظیم کے دوران جاپان کی باقاعدہ شکست کی یاد میں منعقد ہونے والی عظیم الشان فوجی پریڈ میں دنیا کے متعدد سربراہان شریک ہوں گے۔ چین کی وزارتِ خارجہ کے مطابق روس کے صدر ولادیمیر پیوٹن اور شمالی کوریا کے رہنما کم جونگ اُن بھی پریڈ میں شرکت کریں گے۔ اس موقع پر کل 26 غیر ملکی سربراہانِ مملکت اور حکومت شریک ہوں گے جن میں بیلاروس کے صدر الیگزینڈر لوکاشینکو، ایران کے صدر مسعود پزشکیاں، انڈونیشیا کے صدر پرابووو سبینتو اور جنوبی کوریا کی قومی اسمبلی کے اسپیکر وو وون شک بھی شامل ہیں۔
چین کا یومِ فتح 3 ستمبر کو منایا جائے گا جسے بیجنگ اپنی بڑھتی ہوئی عسکری طاقت اور روس سمیت گلوبل ساؤتھ کے ساتھ سفارتی یکجہتی کے مظاہرے کے طور پر دیکھ رہا ہے۔ پریڈ کے روز صدر شی جن پنگ غیر ملکی معزز مہمانوں اور اعلیٰ چینی قیادت کے ساتھ تیان آن من اسکوائر میں لاکھوں فوجیوں کا جائزہ لیں گے۔
یہ پریڈ چین کی حالیہ برسوں کی سب سے بڑی فوجی نمائش تصور کی جا رہی ہے جس میں جدید ترین عسکری سازوسامان، لڑاکا طیارے، میزائل دفاعی نظام اور ہائپر سونک ہتھیاروں کی نمائش کی جائے گی۔ مبصرین کے مطابق یہ مظاہرہ نہ صرف چین کی عسکری قوت بلکہ عالمی سیاست میں اس کے بڑھتے ہوئے اثر و رسوخ کا اظہار ہوگا۔