امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کی جانب سے بھارت سے درآمدات پر ٹیرف کو دوگنا کر کے 50 فیصد تک کرنے کا فیصلہ بدھ کے روز نافذ ہوگیا، جس نے دونوں بڑی جمہوریتوں کے تعلقات کو شدید دھچکا پہنچایا ہے۔ یہ اقدام بھارت کی روسی تیل کی خریداری کے جواب میں کیا گیا ہے۔

نئے ٹیرف کے بعد بھارت سے امریکا کو برآمد ہونے والے ملبوسات، زیورات، کھیلوں کا سامان، فرنیچر، کیمیکلز اور دیگر مصنوعات شدید متاثر ہوں گی۔ بھارتی برآمد کنندگان کے مطابق یہ اضافی محصولات 87 ارب ڈالر کی برآمدات میں سے تقریباً 55 فیصد پر اثر انداز ہوں گے، جس سے ویتنام، بنگلہ دیش اور چین جیسے ممالک کو فائدہ پہنچ سکتا ہے۔

بھارت کی وزارتِ تجارت نے فوری طور پر ردعمل نہیں دیا، تاہم حکومتی ذرائع کے مطابق نئی دہلی امید رکھتا ہے کہ واشنگٹن اضافی 25 فیصد ٹیرف پر نظرثانی کرے گا۔ بھارتی وزیرِ مملکت برائے خارجہ امور کرتی وردھن سنگھ نے کہا کہ ہم اپنی معیشت کو نقصان سے بچانے کے لیے اقدامات کر رہے ہیں اور توانائی کے تحفظ کے لیے فائدہ مند ذرائع سے خریداری جاری رکھیں گے۔

ادھر امریکی مشیر پیٹر ناوارو نے واضح کیا کہ اگر بھارت روسی تیل خریدنا بند کر دے تو ٹیرف فوراً 25 فیصد کم ہو سکتا ہے۔ واشنگٹن کا مؤقف ہے کہ بھارت کی خریداری ماسکو کی جنگی مشینری کو سہارا دے رہی ہے، تاہم نئی دہلی اسے دوہرے معیار سے تعبیر کرتا ہے۔

ماہرین کا کہنا ہے کہ مسلسل بھاری ٹیرف بھارت کی تیزی سے بڑھتی ہوئی معیشت اور بطور متبادل مینوفیکچرنگ حب اس کی کشش کو متاثر کر سکتا ہے۔ اندازہ ہے کہ قریبی مدت میں دو ملین ملازمتوں کو خطرہ لاحق ہے۔

دوسری جانب دونوں ممالک نے منگل کے روز مشترکہ بیان میں اس بات پر زور دیا کہ وہ اپنے تعلقات کو مزید مضبوط بنانے کے لیے رابطے جاری رکھیں گے۔