غیر قانونی کرنسی ڈیلرز اور اسمگلرز کے خلاف کارروائی کے باعث کرنسی مارکیٹ میں اعتماد کی بحالی کا سلسلہ جاری ہے جس کے نتیجے میں منگل کو بھی ڈالر کے مقابلے روپے کی قدر میں بہتری ریکارڈ کی گئی۔

کاروبار کے اختتام پرڈالر کے مقابلے روپیہ ایک پیسے کی بہتری سے 281.86 کا ہوگیا۔واضح رہے کہ مسلسل 13 روز سے ڈالر کی نسبت روپیہ تگڑا ہوا ہے۔

یاد رہے کہ پیر کو روپیہ 281.87 پر بند ہوا تھا۔

ماہرین کے مطابق غیر قانونی کرنسی ڈیلرز اور اسمگلرز کے خلاف قانون نافذ کرنے والے اداروں کی جاری کارروائی کے باعث کرنسی مارکیٹ میں بہتر جذبات دیکھنے میں آ رہے ہیں جس کے نتیجے میں حالیہ دنوں میں روپے نے امریکی ڈالر کے مقابلے میں مثبت رجحان برقرار رکھا ہے۔

ٹرمپ کی جانب سے کوک کو بھیجے گئے خط، جو انہوں نے سوشل میڈیا پر جاری کیا، کے بعد ڈالر انڈیکس 0.3 فیصد کمی کے ساتھ 98.187 پر آ گیا۔

یہ کمی اس وقت سامنے آئی جب امریکی کرنسی نے پیر کو ماہ کی سب سے بڑی یومیہ تیزی درج کی تھی۔

ٹرمپ کا یہ غیر معمولی اقدام صدر کی فیڈ کے خلاف جاری لڑائی میں نمایاں شدت کی علامت ہے، جسے وہ شرحِ سود میں بروقت کمی نہ کرنے کا ذمہ دار ٹھہراتے ہیں اور اس سے امریکی مرکزی بینک کی خودمختاری سے متعلق سرمایہ کاروں کی تشویش بھی بڑھ گئی ہے۔

ٹرمپ کے اقدام کے بعد دو سالہ امریکی ٹریژری بانڈ کی ییلڈ 3.6 بیسس پوائنٹس کمی کے ساتھ 3.694 فیصد پر آ گئی جبکہ طویل مدتی 30 سالہ بانڈز کی ییلڈ 3.3 بیسس پوائنٹس اضافے کے ساتھ 4.922 فیصد تک پہنچ گئی۔

ین کے مقابلے میں ڈالر 147.18 ین پر ٹریڈ ہوا جو امریکی مارکیٹ کے آخری سطح کے مقابلے میں 0.4 فیصد زیادہ ہے۔

آسٹریلین ڈالر ابتدائی تجارت میں 0.15 فیصد اضافے کیساتھ 0.64915 ڈالر پر ٹریڈ ہوا جبکہ ریزرو بینک آف آسٹریلیا کے اگست اجلاس کی کارروائی جاری ہونے سے قبل یہ اضافہ ریکارڈ کیا گیا۔ نیوزی لینڈ ڈالر (کیوی) بھی 0.1 فیصد مضبوط ہو کر 0.5856 ڈالر پر ٹریڈ ہوا۔