ہنگو میں ایف سی پوسٹ پر حملہ، 3 اہلکار شہید اور 17 زخمی، اپر دیر میں 5 دہشت گرد مارے گئے
صوبہ خیبر پختونخوا کے ضلع ہنگو میں فیڈرل کانسٹیبلری (ایف سی) کی چیک پوسٹ پر تحریکِ طالبان پاکستان (ٹی ٹی پی ) المعروف فتنۃ الخوارج کے حملے میں 3 اہلکار شہید اور 17 زخمی ہوگئے جب کہ ایک علیحدہ جھڑپ میں سیکیورٹی فورسز نے اپر دیر میں پانچ دہشت گرد ہلاک کردیے۔
وزیر داخلہ محسن نقوی نے اپر دیر میں فتنۃ الخوارج کے خلاف کامیاب آپریشن کو سراہا اور خیبر پختونخوا پولیس اور کاؤنٹر ٹیررزم ڈپارٹمنٹ (سی ٹی ڈی) کی پیشہ ورانہ صلاحیتوں کو خراجِ تحسین پیش کیا۔
انہوں نے کہا کہ خیبر پختونخوا پولیس اور سی ٹی ڈی نے فتنۃ الخوارج کے شیطانی منصوبے ناکام بنا دیے ہیں، ہماری سیکیورٹی فورسز ملک سے فتنۃ الخوارج کے دہشت گردوں کو مکمل طور پر ختم کرنے کے لیے پرعزم ہیں۔
وزیر داخلہ نے دہشت گردوں کے ساتھ فائرنگ کے تبادلے میں زخمی ہونے والے پولیس اہلکاروں کی جلد صحت یابی کے لیے دعا بھی کی۔
دریں اثنا، شہداء کو خراجِ عقیدت پیش کرتے ہوئے محسن نقوی نے ہنگو میں فیڈرل ریزرو پولیس پر حملے کی شدید مذمت کی اور جاں بحق اہلکاروں کے لواحقین سے ہمدردی کا اظہار کیا۔ انہوں نے زخمیوں کو بہترین ممکنہ علاج فراہم کرنے کی ہدایت بھی کی۔
انہوں نے کہا کہ فیڈرل ریزرو پولیس کے اہلکاروں نے بھارتی حمایت یافتہ دہشت گرد حملے کو ناکام بنانے کے لیے اپنی جانیں قربان کیں۔
آج نیوز کے مطابق، ضلع پولیس افسر ہنگو محمد خالد خان نے بتایا کہ دہشت گردوں نے ایف سی چیک پوسٹ پر بھاری ہتھیاروں سے حملہ کیا۔
ڈی پی او کے مطابق دہشتگرد رات کے اندھیرے میں اپنے ساتھیوں کی لاشیں اپنے ساتھ لے گئے۔
دریں اثنا آپریشن کے دوران شہید ہونے والے ایف سی اہلکاروں کی لاشیں ڈی ایچ کیواسپتال منتقل کردی گئی ہیں جبکہ زخمیوں کو سی ایم ایچ ٹل منتقل کیا گیا ہے۔