انٹربینک مارکیٹ میں پیر کے روز امریکی کرنسی کے مقابلے میں پاکستانی روپیہ کی قدر میں 0.01 فیصد کا اضافہ ریکارڈ کیا گیا اور ڈالر کے مقابلے روپیہ 281.87 روپے پر بند ہوا۔

روپے کی قدر میں یہ 3 پیسے کا اضافہ ریکارڈ کیا گیا، جو ڈالر کے مقابلے میں مسلسل بارہواں دن بہتری کا عکاس ہے۔

یاد رہے کہ گزشتہ ہفتے ڈالر کے مقابلے روپیہ 16 پیسے یا 0.05 فیصد کی بہتری سے 281.90 روپے پر بند ہوا تھا۔

بین الاقوامی سطح پر امریکی ڈالر نے پیر کو یورو کے مقابلے میں چار ہفتوں کی کم ترین سطح سے اوپر آنے کی کوشش کی کیونکہ فیڈرل ریزرو کے چیئرمین جیروم پاول کے نرم مؤقف کے بعد ڈالر کی قدر میں ایک فیصد سے زیادہ کی کمی واقع ہوئی تھی۔

ایشیائی مارکیٹ کے ابتدائی اوقات میں امریکی ڈالر کی قدر میں 0.2 فیصد اضافہ ہوکر یہ فی یورو 1.1699 ڈالر تک پہنچ گیا، تاہم یہ اب بھی جمعے کی کم ترین سطح 1.174225 ڈالر کے قریب ہے جو 28 جولائی کے بعد سب سے نچلی سطح تھی۔

گزشتہ سیشن میں 0.8 فیصد کمی کے بعد امریکی ڈالر کی قدر میں 0.1 فیصد اضافہ ہوا اور یہ برطانوی پاؤنڈ کے مقابلے میں 1.3502 ڈالر پر پہنچ گیا۔ جاپانی کرنسی ین کے مقابلے میں ڈالر 0.4 فیصد بڑھ کر 147.46 ین تک پہنچا، جس سے جمعہ کو ہونے والی ایک فیصد کمی کا کچھ حصہ واپس حاصل کیا گیا۔

آسٹریلین ڈالر پیر کو مختصر وقت کے لیے ایک ہفتے کی بلند ترین سطح 0.6523 ڈالر تک پہنچا، تاہم بعد میں واپس آ کر معمولی کمی کے ساتھ 0.6484 ڈالر پر ٹریڈ ہونے لگا۔ گزشتہ سیشن میں اس کی قدر میں 1.1 فیصد اضافہ ریکارڈ کیا گیا تھا۔

فیڈ کے سالانہ جیکسن ہول سمپوزیم میں جمعہ کو دیے گئے ایک انتہائی توجہ طلب خطاب میں چیئرمین جیروم پاول نے ستمبر میں مرکزی بینک کے اجلاس میں شرحِ سود میں کمی کے امکان کا اشارہ دیا۔

ایل ایس ای جی کے اعداد و شمار کے مطابق، ٹریڈرز اب 17 ستمبر کی پالیسی میٹنگ میں شرح سود میں ایک چوتھائی پوائنٹ کمی کے 80 فیصد امکانات ظاہر کر رہے ہیں جبکہ سال کے اختتام تک مجموعی طور پر 48 بیسس پوائنٹس کمی کے امکانات بھی قیمتوں میں شامل کر لیے گئے ہیں۔

ٹریڈرز نے رواں ماہ کے آغاز میں توقع سے کمزور ماہانہ روزگار رپورٹ کے بعد ستمبر میں شرحِ سود میں کمی کے امکانات پر اپنی پوزیشنز بڑھا دی تھیں لیکن توقع سے زیادہ پیداواری قیمتوں کے اشاریے اور مضبوط کاروباری سرگرمیوں کے سرویز نے جیکسن ہول اجلاس سے قبل یہ توقعات کچھ کم کردیں۔

گزشتہ چند ہفتوں میں امریکی ڈالر پر اضافی دباؤ بھی دیکھنے میں آیا ہے کیونکہ امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کی جانب سے پاول اور دیگر فیڈ پالیسی سازوں پر تنقید نے مرکزی بینک کی خودمختاری کے حوالے سے خدشات کو بڑھا دیا ہے۔

پیر کے روز خام تیل کی قیمتوں میں اضافہ دیکھا گیا، کیونکہ تاجروں نے ان خدشات کو مدنظر رکھا کہ روس پر مزید امریکی پابندیوں اور یوکرینی حملوں کے نتیجے میں توانائی کے بنیادی ڈھانچے کو نقصان پہنچنے سے تیل کی رسد متاثر ہو سکتی ہے۔

بین الاقوامی منڈی میں برینٹ کروڈ فیوچرز کی قیمت 40 سینٹس (0.6 فیصد) بڑھ کر 68.13 ڈالر فی بیرل تک پہنچ گئی۔

جبکہ ویسٹ ٹیکساس انٹرمیڈیٹ (ڈبلیو ٹی آئی) کے سودے 44 سینٹس (0.7 فیصد) کے اضافے کے ساتھ 64.10 ڈالر فی بیرل پر بند ہوئے۔

انٹربینک مارکیٹ میں پیر کو ڈالر کی قیمتیں:

قیمت خرید 281.87 روپے

قیمت فروخت 282.07 روپے