پی ٹی آئی یا اس کی معافی سے متعلق برسلز میں کوئی بات نہیں ہوئی، ڈی جی آئی ایس پی آر کی صحافی کے دعوے کی تردید
ڈائریکٹر جنرل انٹرسروسز پبلک ریلیشنز (ڈی جی آئی ایس پی آر) لیفٹیننٹ جنرل احمد شریف چوہدری نے جمعرات کے روز ایک سینئر صحافی کے اس دعوے کو مسترد کر دیا ہے جس میں کہا گیا تھا کہ رواں ماہ کے اوائل میں برسلز میں ان کی چیف آف آرمی اسٹاف (سی او اے ایس) فیلڈ مارشل عاصم منیر سے ملاقات اور گفتگو ہوئی، جس میں مبینہ طور پر آرمی چیف نے پاکستان تحریکِ انصاف (پی ٹی آئی) اور اس کی معافی سے متعلق بات کی ہے۔
فوج کے ترجمان نے صحافی کے آرمی چیف کا انٹرویو کرنے کے دعوے کو یکسر مسترد کر دیا اور کہا کہ آرمی چیف نے کسی صحافی کو کوئی انٹرویو نہیں دیا ہے۔
سہیل وڑائچ نے اپنے مضمون میں دعویٰ کیا تھا کہ سی او اے ایس منیر نے کہا، ’’سیاسی مفاہمت ممکن ہے اگر مخلصانہ طور پر معافی مانگی جائے۔‘‘ اگرچہ انہوں نے کسی سیاسی جماعت کا نام نہیں لیا، لیکن مضمون میں بیان کے سیاق و سباق سے واضح ہے کہ اشارہ کس جانب ہے۔
ڈی جی آئی ایس پی آر نے سہیل وڑائچ کے اس اقدام کو نامناسب قرار دیا اور اسے ذاتی تشہیر اور فائدے کی کوشش قرار دیا۔
صحافیوں سے گفتگو کرتے ہوئے آئی ایس پی آر کے ڈائریکٹر جنرل نے کہا کہ وڑائچ کا زیر بحث مضمون برسلز میں ہونے والے ایک ایسے پروگرام سے متعلق ہے جہاں سینکڑوں افراد نے تصاویر بنوائیں۔ انہوں نے کہا، ”نہ تو پی ٹی آئی اور نہ ہی کسی معافی پر کوئی بات ہوئی۔“
انہوں نے ایک بار پھر دہرایا کہ 9 مئی کے واقعات میں ملوث عناصر اور ان کے سہولت کاروں کو قانون کے مطابق انصاف کے کٹہرے میں لانا ضروری ہے۔ افسوس کا اظہار کرتے ہوئے ان کا کہنا تھا کہ ایک سینئر صحافی کی جانب سے ایسی غیر ذمہ داری کا مظاہرہ قابل افسوس ہے۔
دہشت گردی سے متعلق ایک سوال کے جواب میں ڈی جی آئی ایس پی آر نے کہا کہ پاکستان پورے خطے کی تقدیر بدلنے کی صلاحیت رکھتا ہے، یہی وجہ ہے کہ اسے بار بار حملوں کا سامنا کرنا پڑتا ہے۔
پاکستان کے نوجوانوں کو ملک کا قیمتی اثاثہ قرار دیتے ہوئے انہوں نے ان پر زور دیا ہے کہ وہ اپنے نظریاتی ریاستی ورثے اور تاریخ کو سمجھیں اور اپنی قوت کو پہچانیں۔ انہوں نے کہا، ’’جس دن نوجوانوں نے اپنی طاقت کو پہچان لیا، کوئی انتہا پسند یا پراکسی انہیں خوفزدہ نہیں کر سکے گا۔‘‘
ڈی جی آئی ایس پی آر نے کہا کہ بھارت یہ سمجھتا تھا کہ وہ اپنی دہشت گرد پراکسیز اور سہولت کاروں کے ذریعے حملہ کر کے پاکستان آرمی کو بدنام کر سکتا ہے، لیکن سب کچھ بھارت کے ناپاک عزائم کے برخلاف ہوا۔
انہوں نے کہا کہ پاکستان اور اس کی مسلح افواج نے بھارت اور اس کی پراکسیز کو منہ توڑ جواب دیا۔
انہوں نے بتایا کہ کچھ لوگوں کا خیال تھا کہ اربوں ڈالر کی بھارتی فوجی مشینری پاکستان کو آسانی سے شکست دے دے گی۔
انہوں نے کہا کہ یہاں تک کہ بعض حلقوں کی طرف سے یہ تجویز بھی آئی کہ بھارت اور اس کی پراکسیز، بشمول فتنہ الخوارج اور فتنہ ہندوستان، پاکستان پر بیک وقت حملہ کریں، لیکن پوری دنیا نے دیکھا کہ پاکستان نے دونوں محاذوں پر دشمن کا کیسے سامنا کیا۔‘‘
مسلح افواج کے ترجمان نے کہا کہ 2014 میں تمام سیاسی جماعتوں کی جانب سے دہشت گردی کے خاتمے کے لیے “غیر قانونی نیٹ ورکس” کو ختم کرنے کا جو فیصلہ کیا گیا تھا، وہ مکمل طور پر نافذ نہیں ہو سکا۔
انہوں نے کہا کہ جب جرائم میں ملوث غیر قانونی افغان باشندوں کو ملک بدر کیا جاتا ہے تو ہمارے اپنے ملک کے بعض سیاسی اور مجرمانہ عناصر مسائل پیدا کرنا شروع کر دیتے ہیں۔
انہوں نے زور دیا کہ نیشنل ایکشن پلان کے تمام 14 نکات کو مکمل طور پر، حرف بہ حرف نافذ کیا جائے۔ انہوں نے کہا کہ گورننس کے خلا کو روزانہ کی بنیاد پر فوج، پولیس اور قانون نافذ کرنے والے اداروں کی قربانیوں سے پُر کیا جا رہا ہے۔