یوکرین کے صدر ولادیمیر زیلنسکی نے کہا ہے کہ اگر روسی صدر ولادیمیر پیوٹن اُن سے براہِ راست ملاقات پر آمادہ نہیں ہوتے تو واشنگٹن کی جانب سے ایک ”مضبوط ردِعمل“ سامنے آنا چاہیے۔ زیلنسکی نے یہ بیان جمعرات کو کیف میں صحافیوں سے بریفنگ کے دوران دیا۔ انہوں نے کہا کہ انہوں نے فوری طور پر دو طرفہ ملاقات کی تجویز کو قبول کیا، لیکن روسی آمادگی اب تک غیر یقینی ہے۔

زیلنسکی کا کہنا تھا کہ اگر روس تیار نہیں ہوتا تو امریکہ کو اپنا واضح اور سخت ردعمل دینا چاہیے۔ دوسری جانب امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ یوکرین اور روس کے درمیان امن قائم کرنے کی کوششوں میں مصروف ہیں، تاہم انہوں نے تسلیم کیا ہے کہ پیوٹن ممکنہ طور پر کسی معاہدے پر راضی نہ ہوں۔

روس نے فروری 2022 میں یوکرین پر مکمل حملہ کیا تھا اور اس وقت اپنے ہمسایہ ملک کے تقریباً 20 فیصد علاقے پر قابض ہے۔ زیلنسکی کے مطابق ابھی یہ واضح نہیں کہ ماسکو جنگ کے خاتمے کے لیے کس حد تک علاقے واپس دینے پر تیار ہے۔

دریں اثنا، ہنگری نے ایک بار پھر روس اور یوکرین کے درمیان امن مذاکرات کی میزبانی کی پیشکش کی ہے۔ تاہم زیلنسکی نے بوداپسٹ میں مذاکرات کے امکان کو مشکل قرار دیا۔