پاکستان تحریک انصاف (پی ٹی آئی) کے بانی چیئرمین عمران خان نے بدھ کے روز محمود خان اچکزئی کو قومی اسمبلی میں قائد حزب اختلاف کے لیے نامزد کر دیا ہے۔ یہ بات آج نیوز نے اپنی رپورٹ میں بتائی ہے۔

جیل میں قید عمران خان نے سینیٹ میں قائد حزب اختلاف کے لیے اعظم سواتی کو بھی نامزد کیا ہے۔

پی ٹی آئی کا یہ اقدام اس وقت سامنے آیا جب قومی اسمبلی سیکریٹریٹ نے 9 مئی کے کیسز میں انسداد دہشت گردی کی عدالت سے سزا یافتہ ہونے کے باعث عمر ایوب کو قائد حزب اختلاف کے عہدے سے ہٹانے کا باضابطہ نوٹیفکیشن جاری کیا تھا۔

عمر ایوب کو نہ صرف قومی اسمبلی میں قائد حزب اختلاف کے عہدے سے ہٹایا گیا بلکہ انہیں تمام قائمہ کمیٹیوں، بشمول پبلک اکاؤنٹس کمیٹی سے بھی فارغ کر دیا گیا ہے۔

اے ٹی سی کے فیصلے کے بعد الیکشن کمیشن نے عمر ایوب اور شبلی فراز کو نااہل قرار دینے کا نوٹیفکیشن بھی جاری کیا جس کے خلاف دونوں رہنماؤں نے پشاور ہائی کورٹ سے رجوع کر رکھا ہے۔

اس کے علاوہ پی ٹی آئی کے 7 نااہل قرار دیے گئے قانون ساز 15 قائمہ کمیٹیوں میں اپنی نشستیں کھو چکے ہیں۔

صاحبزادہ حامد رضا کی قائمہ کمیٹی برائے انسانی حقوق کی چیئرمین شپ ختم کر دی گئی، زرتاج گل قائمہ کمیٹی برائے انسانی حقوق کی رکنیت سے ہاتھ دھو بیٹھیں اور رائے حسن نواز سے قائمہ کمیٹی برائے ریلوے کی چیئرمین شپ واپس لے لی گئی۔

پی ٹی آئی کے سینئر رہنما سلمان اکرم راجہ کا کہنا تھا کہ ضمنی انتخابات کے حوالے سے مشاورت اعلیٰ سطحی پارٹی اجلاس میں کی جائے گی جب کہ سیاسی کمیٹی کے اجلاس میں فیصلہ کیا جائے گا۔