قومی آفات مینجمنٹ اتھارٹی (این ڈی ایم اے) نے اتوار کو خبردار کیا ہے کہ آنے والے ہفتوں میں مون سون کی مزید تین لہریں متوقع ہے، جن میں بارش کی شدت معمول سے 50 فیصد زیادہ رہنے کی پیش گوئی کی گئی ہے۔

این ڈی ایم اے کے چیئرمین لیفٹیننٹ جنرل انعام حیدر ملک نے اسلام آباد میں پریس کانفرنس میں کہا، “لاہور، اسلام آباد، راولپنڈی اور دیگر بڑے شہروں میں شہری سطح پر سیلاب کی صورتحال پیدا ہونے کا امکان ہے۔

انہوں نے تصدیق کی کہ خیبر پختونخوا کے اضلاع بشمول بونیر، باجوڑ اور بٹگرام میں 313 افراد جاں بحق ہو چکے ہیں، جبکہ پنجاب، گلگت بلتستان، سندھ، بلوچستان، آزاد جموں و کشمیر اور اسلام آباد سے بھی اضافی اموات کی اطلاعات ہیں۔

لیفٹیننٹ جنرل انعام حیدر ملک نے کہا کہ شدید گرمی کی وجہ سے مون سون سسٹم پھیل گیا ہے اور یہ ابتدائی ستمبر تک جاری رہے گا۔ انہوں نے کہا کہ نقصانات کا اندازہ لگانے کے لیے سروے کیے جائیں گے اور مواصلاتی بنیادی ڈھانچے کی بحالی کو ترجیح دی جائے گی۔

انہوں نے بتایا کہ زیادہ نقصان والے اضلاع میں ریلیف پیکجز تقسیم کیے جائیں گے اور لاپتہ افراد کی تلاش جاری رہے گی۔ این ڈی ایم اے مواصلات اور ہاؤسنگ کی وزارتوں کے ساتھ بنیادی ڈھانچے کی بحالی کے لیے بھی تعاون کرے گا۔

لیفٹیننٹ جنرل انعام حیدر ملک نے زور دیا کہ اس قسم کے نقصانات موسمیاتی تبدیلی کے اثرات کا حصہ ہیں۔ بطور قوم، ہمیں اجتماعی طور پر ان چیلنجز کا سامنا کرنا ہوگا۔ انہوں نے کہا کہ اگلے دو ہفتوں میں توجہ شمالی پنجاب، آزاد جموں و کشمیر اور گلگت بلتستان پر مرکوز رہے گی۔

انہوں نے اس بات پر بھی زور دیا کہ مستقبل کے نقصانات کو کم کرنے کے لیے ابتدائی انتباہی نظام نہایت اہم ہیں۔

این ڈی ایم اے کی وارننگ اس وقت جاری کی گئی ہے جب پی ڈی ایم اے کے ڈائریکٹر جنرل خیبر پختونخوا، اسفندیار خٹک نے میڈیا کو بتایا کہ خیبر پختونخوا میں آفت زدہ علاقوں میں سیلاب سے ہلاکتوں کی تعداد 300 سے تجاوز کر چکی ہے، جس میں بونیر ضلع سب سے زیادہ متاثر ہوا ہے۔