امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے کہا ہے کہ یوکرین کو روس کے ساتھ جنگ ختم کرنے کے لیے ایک معاہدے پر رضا مند ہو جانا چاہیے۔ بعد ازاں انہوں نے روسی صدر ولادیمیر پیوٹن سے ملاقات کی جس میں جنگ بندی پر کوئی معاہدہ نہیں ہوسکا۔
تاہم دونوں رہنماؤں نے اپنے ملک واپس جانے سے قبل بات چیت کو نتیجہ خیز قرار دیا۔
الاسکا میں تقریباً 3 گھنٹے جاری رہنے والی ملاقات کے بعد میڈیا کے سامنے مختصر بریفنگ دیتے ہوئے دونوں رہنماؤں نے کہا کہ کچھ غیر واضح امور پر پیش رفت ہوئی ہے، مگر کسی تفصیل یا سوالات کے جواب نہیں دیے گئے، صدر ٹرمپ نے صحافیوں کے سوالات کو نظر انداز کیا۔
صدر ٹرمپ نے کہا کہ ہم نے کچھ پیش رفت کی ہے۔ اس موقع پر ان کے پیچھے ”Pursuing Peace“ (امن کی تلاش) کا بینر لگا ہوا تھا۔
انہوں نے مزید کہا کہ جب تک معاہدہ نہیں ہوتا، کوئی معاہدہ نہیں ہے۔
یوکرینی صدر زیلنسکی نے ہفتہ کو کہا کہ یوکرین صدر ٹرمپ کے ساتھ تعمیری تعاون کے لیے تیار ہے۔ انہوں نے بتایا کہ وہ پیر کو واشنگٹن جائیں گے۔
تاہم پیوٹن نے روس کے دیرینہ موقف میں کسی قسم کی تبدیلی کے آثار نہیں دیے اور کہا کہ بحران ختم کرنا اور ماسکو کے جائز تحفظات کو حل کرنا ضروری ہے۔
انہوں نے کہا کہ وہ ٹرمپ سے متفق ہیں کہ یوکرین کی سلامتی کو یقینی بنایا جانا چاہیے۔
ابتدائی طور پر ٹرمپ ،پیوٹن ملاقات یوکرین میں جنگ کے دوران جنگ بندی کے لیے کوئی قابلِ ذکر پیش رفت نہیں لائی جو پچھلے 80 سالوں میں یورپ کا سب سے ہلاکت خیز تنازعہ ہے اور جسے ٹرمپ نے سمٹ سے پہلے اپنا ہدف مقرر کیا تھا۔
تاہم امریکی صدر کے ساتھ براہِ راست ملاقات کرنا خود پوٹن کے لیے کامیابی تھی کیونکہ 2022 میں روس کے مکمل حملے کے بعد وہ مغربی رہنماؤں کی طرف سے الگ تھلگ ہو چکے تھے۔
سمٹ کے بعد ٹرمپ نے فاکس نیوز کے شان ہینیٹی کو بتایا کہ پوٹن کے ساتھ پیش رفت کے بعد وہ روسی تیل خریدنے پر چین پر محصولات عائد کرنے سے فی الحال گریز کریں گے۔ انہوں نے بھارت کا ذکر نہیں کیا، جو روسی خام تیل کا ایک اور بڑا خریدار ہے اور جس پر امریکی درآمدات پر مجموعی طور پر 50 فیصد محصول عائد ہے، جس میں روس سے درآمدات پر 25 فیصد جرمانہ شامل ہے۔
ٹرمپ نے چینی مصنوعات پر محصولات کے حوالے سے کہا کہ آج جو کچھ ہوا، اس کی وجہ سے مجھے ابھی اس بارے میں سوچنے کی ضرورت نہیں۔ ممکن ہے دو یا تین ہفتے بعد مجھے اس پر غور کرنا پڑے، لیکن فی الحال اس پر توجہ دینے کی ضرورت نہیں۔
صدر نے ماسکو کے خلاف پابندیوں کی دھمکی بھی دی تھی لیکن اب تک اس پر عمل نہیں ہوا، حالانکہ پوٹن نے اس ماہ کے آغاز میں ٹرمپ کی عائد کردہ جنگ بندی کی آخری تاریخ کو نظر انداز کیا تھا۔
ٹرمپ نے مزید اشارہ دیا کہ پوٹن اور یوکرینی صدر وولودیمیر زیلنسکی کے درمیان ایک ملاقات ممکنہ طور پر منعقد کی جائے گی جس میں وہ خود بھی شریک ہوسکتے ہیں، تاہم ملاقات کے انعقاد کی تفصیلات یا وقت کا اعلان نہیں کیا گیا۔
پوٹن نے صحافیوں سے بات کرتے ہوئے زیلنسکی سے ملاقات کا کوئی ذکر نہیں کیا، لیکن کہا کہ وہ توقع کرتے ہیں کہ یوکرین اور اس کے یورپی اتحادی امریکی روسی مذاکرات کے نتائج کو تعمیری انداز میں قبول کریں گے اور ابھرتی ہوئی پیش رفت کو خطرے میں نہیں ڈالیں گے۔
انہوں نے روس کے دیرینہ موقف کو بھی دہرایا کہ جو عوامل روس جنگ کی جڑیں قرار دیتا ہے، انہیں ختم کیے بغیر طویل المدتی امن قائم نہیں کیا جا سکتا، جو ظاہر کرتا ہے کہ وہ ابھی بھی جنگ بندی کے لیے تیار نہیں ہیں۔
یہ سمٹ جنگ کے آغاز کے بعد پوٹن اور امریکی صدر کے درمیان پہلی ملاقات تھی، کیف کی جانب سے فوری ردعمل سامنے نہیں آیا۔