بھارت کے وزیراعظم نریندر مودی نے جمعہ کو قوم سے خطاب میں ملک کو زیادہ خود انحصاری کی جانب گامزن کرنے، کھاد سے لے کر جیٹ انجن اور برقی گاڑیوں کی بیٹریاں تک سب کچھ مقامی طور پر تیار کرنے کی ضرورت پر زور دیا اور امریکہ کے ساتھ تجارتی تنازع کے تناظر میں کسانوں کے تحفظ کا عزم ظاہر کیا۔
یہ خطاب یوم آزادی کے موقع پر لال قلعے کی فصیل سے اس وقت کیا گیا جب نئی دہلی امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کی جانب سے بھارتی مصنوعات پر عائد بھاری ٹیرف اور تجارتی مذاکرات کی ناکامی سے دوچار ہے۔
بھارتی وزریراعظم مودی نے کہا کہ کسان، ماہی گیر اور مویشی پال ہماری اولین ترجیح ہیں اور وہ کسی بھی پالیسی کے خلاف دیوار بن کر کھڑے ہوں گے جو ان کے مفادات کو نقصان پہنچائے۔
انہوں نے امریکہ یا ٹیرف کا براہِ راست ذکر نہیں کیا۔ گزشتہ ہفتے ٹرمپ نے روسی تیل کی درآمدات جاری رکھنے پر بھارت کی مصنوعات پر مزید 25 فیصد ٹیرف عائد کیا، جس سے بعض برآمدات پر محصول 50 فیصد تک پہنچ گیا۔یہ اقدام بھارت کی امریکہ کو تقریباً 87 ارب ڈالر سالانہ کی برآمدات، خصوصاً ٹیکسٹائل، جوتے، قیمتی پتھروں اور زیورات کے شعبے کو متاثر کر سکتا ہے۔
پانچ دور کی بات چیت کے باوجود دونوں ممالک کے درمیان زرعی و ڈیری شعبے کی رسائی اور روسی تیل کے معاملے پر اختلافات برقرار رہے۔ بھارتی وزارت خارجہ نے امید ظاہر کی ہے کہ تعلقات باہمی احترام اور مشترکہ مفادات کی بنیاد پر آگے بڑھیں گے۔