ملک کے شمالی علاقہ جات اور پہاڑی علاقوں میں بادل پھٹنے اور موسلادھار بارشوں نے بڑے پیمانے پر تباہی مچادی، جس کے نتیجے میں سیلاب، لینڈ سلائیڈنگ اور سڑکوں کی بندش نے متعدد دیہات کا رابطہ منقطع کر دیا ہے اور کئی علاقوں میں لوگوں کو محفوظ مقامات پر منتقل ہونا پڑا ۔ یہ اطلاع آج نیوز نے اپنی ایک رپورٹ میں دی ہے۔
گلگت بلتستان کے ضلع غذر میں طوفانی بارشوں کے بعد متعدد ندی نالوں میں طغیانی آگئی، جس سے کئی علاقوں میں سیلابی صورتحال پیدا ہوگئی۔ اشکومن روڈ آٹھ مختلف مقامات پر بند ہوگئی جب کہ ایک گاڑی سیلابی ریلے میں بہہ گئی۔
اسکردو میں بادل پھٹنے سے برگی نالے میں شدید سیلاب آیا، جس کے باعث قریبی دیہات کے مکینوں کو نقل مکانی کرنا پڑی۔ گوپس تحصیل کے گاؤں کھلتی میں سات افراد سیلابی ریلے کی زد میں آگئے، جن میں سے تین افراد، جن میں ایک خاتون بھی شامل ہے، جاں بحق ہوگئے۔
دیامر میں دو افراد سیلابی پانی میں بہہ گئے، جبکہ لینڈ سلائیڈنگ کے ایک واقعے میں ایک بچہ زخمی ہوا۔ غذر کے علاقے تھوئی میں ایک شخص سیلاب میں بہہ کر لاپتا ہوگیا۔
متاثرہ علاقوں میں امدادی کارروائیاں جاری ہیں، تاہم سڑکوں کی بندش اور خراب موسم کے باعث ریسکیو ٹیموں کو شدید مشکلات کا سامنا ہے۔ حکام نے عوام سے محتاط رہنے اور محفوظ مقامات پر منتقل ہونے کی اپیل کی ہے۔
شمالی علاقہ جات اور آزاد کشمیر میں بادل پھٹنے اور شدید بارشوں نے مواصلاتی رابطوں کو مزید متاثر کر دیا۔ اشکومن میں دریا کے پانی میں خطرناک حد تک اضافے کے باعث نشیبی علاقوں کے مکینوں کو محفوظ مقامات پر منتقل کیا گیا۔
اسکردو میں کے-ٹو مہم پر جانے والا ایک امریکی کوہ پیما پتھروں کے گرنے سے زخمی ہوگیا، جسے پاک فوج کے ہیلی کاپٹر کے ذریعے ہسپتال منتقل کیا گیا۔
آزاد جموں و کشمیر (اے جے کے) میں بھی طوفانی بارشوں نے شدید تباہی مچائی۔ باغ میں سیلابی ریلے میں ایک سیاحوں کی گاڑی بہہ گئی، تاہم خوش قسمتی سے تمام افراد کو محفوظ نکال لیا گیا۔
مظفرآباد کے علاقے نصیرآباد میں بادل پھٹنے سے سرلی ساچا نالے میں طغیانی آگئی، جس سے ایک گھر مکمل طور پر بہہ گیا اور ایک ہی خاندان کے چھ افراد جاں بحق ہو گئے۔
وادی نیلم میں لینڈ سلائیڈنگ کے باعث متعدد سیاح پھنس گئے، جنہیں نکالنے کے لیے ریسکیو آپریشن جاری ہے۔ باغ شہر اور گرد و نواح میں نالوں کے پانی میں طغیانی نے معمولاتِ زندگی کو مفلوج کر دیا، جبکہ محل اور ملوانی نالوں کے کناروں پر شدید کٹاؤ دیکھنے میں آیا ہے۔
ایبٹ آباد میں ایک طالبعلم موسمی نالہ عبور کرتے ہوئے ڈوب گیا، جب کہ ایک اور طالبعلم اور استاد زخمی ہوئے۔
محکمہ موسمیات نے آئندہ چند روز میں مزید بارشوں کی پیش گوئی کی ہے۔ مقامی انتظامیہ اور ریسکیو ٹیمیں ہنگامی بنیادوں پر ریلیف اور انخلا کی سرگرمیاں جاری رکھے ہوئے ہیں۔