بھارت میں اپوزیشن لیڈر راہول گاندھی نے بدھ کو کہا کہ ملک کے انتخابی نظام میں سنگین بے ضابطگیاں موجود ہیں اور وہ اس کی شفافیت کو عوامی دباؤ اور ممکنہ طور پر عدالت کے ذریعے چیلنج کرتے رہیں گے۔

نہرو۔گاندھی خاندان سے تعلق رکھنے والے کانگریس پارٹی کے رہنما نے گزشتہ ہفتے الزام لگایا تھا کہ حکام نے 2024 کے عام انتخابات اور حالیہ دیگر انتخابات میں ووٹر فہرستوں میں جعلی نام شامل کیے۔

وزیراعظم نریندر مودی کی بھارتیہ جنتا پارٹی (بی جے پی)، جو قومی انتخابات میں توقعات سے کم کارکردگی دکھا کر اتحادیوں کے سہارے حکومت بنانے میں کامیاب ہوئی، بعد میں کئی ریاستی انتخابات آسانی سے جیت گئی۔ بی جے پی اور الیکشن کمیشن دونوں نے دھاندلی کے الزامات کی تردید کی ہے۔

راہو گاندھی نے دہلی میں صحافیوں سے گفتگو میں کہا کہ کانگریس کے تحقیقاتی شواہد سنگین خامیوں کی نشاندہی کرتے ہیں، تاہم ان کا مقصد جمہوری اداروں پر عوامی اعتماد کو مجروح کرنا نہیں۔ ان کے مطابق پارٹی کی حکمت عملی عوامی دباؤ کے ذریعے الیکشن کمیشن کو چیلنج کرنے کی ہے، لیکن ضرورت پڑنے پر عدالت سے بھی رجوع کیا جا سکتا ہے۔

انہوں نے کہا کہ اگر انتخابات میں دھاندلی ہو تو کوئی بھی عوامی مہم کارگر نہیں۔ راہو گاندھی نے بہار کے آئندہ ریاستی انتخابات کو سخت مقابلے والا قرار دیتے ہوئے کہا کہ عوامی حمایت میں اپوزیشن آگے بڑھ رہی ہے۔