عالمی کریڈٹ ریٹنگ ایجنسی موڈیز نے بدھ کے روز پاکستان کی طویل مدتی خودمختار کریڈٹ ریٹنگ کو Caa2 سے بڑھا کر Caa1 کر دیا۔ ایجنسی کے مطابق، یہ بہتری بیرونی مالیاتی صورتحال میں بہتری، آئی ایم ایف کے ساتھ مسلسل تعاون، اور دوطرفہ قرضوں کی ری شیڈولنگ کے باعث ممکن ہوئی ہے، جس سے قلیل مدتی ادائیگیوں کا منظرنامہ نسبتاً بہتر ہوا ہے۔ تاہم، ریٹنگ کے ساتھ دیا گیا ”مستحکم آؤٹ لک“ یہ بھی ظاہر کرتا ہے کہ معیشت کو درپیش ڈھانچہ جاتی کمزوریاں تاحال برقرار ہیں۔
موڈیز کے مطابق ریٹنگ میں یہ بہتری پاکستان کے ڈیفالٹ کے خطرے میں کمی کی عکاسی کرتی ہے، جو زرمبادلہ کے ذخائر میں اضافے اور آئی ایم ایف کے جاری پروگرام سے حاصل مالی معاونت کی بدولت ممکن ہوئی۔ اس کے ساتھ ساتھ، دوطرفہ قرضوں کی مدت میں توسیع نے بھی وقتی مالی دباؤ کو کم کیا ہے۔
پاکستان کی درآمدی صلاحیت میں بہتری آئی ہے، جو اب دو ماہ سے زائد کی ضروریات پوری کر سکتی ہے جبکہ 2023 کے اوائل میں یہ مدت ایک ماہ سے بھی کم تھی۔ اس سے ادائیگیوں کے توازن پر فوری دباؤ میں کمی واقع ہوئی ہے۔
تاہم ریٹنگ کا موجودہ درجہ Caa1 اب بھی پاکستان کو انتہائی قیاس آرائی پر مبنی معیشتوں کی فہرست میں رکھتا ہے، جو سرمایہ کاری کے قابل درجہ بندی سے کئی درجے نیچے ہے۔
اس سطح پر عالمی منڈیوں سے قرض حاصل کرنا اب بھی مہنگا اور مشکل ہے اور سرمایہ کاری کا رجحان صرف اُن فنڈز تک محدود ہے جو زیادہ منافع کے خواہاں یا فرنٹیئر مارکیٹس پر توجہ دیتے ہیں۔ پاکستان کو آئندہ برسوں میں اپنے وسیع جاری کھاتے کے خسارے اور بھاری غیر ملکی قرضوں کی ادائیگیوں کے باعث اب بھی بیرونی مالیاتی معاونت کی شدید ضرورت ہے۔
موڈیز نے متنبہ کیا ہے کہ اگر اصلاحات کا تسلسل نہ رہا اور آئی ایم ایف کے ساتھ تعاون برقرار نہ رکھا گیا تو پاکستان کی مالی حالت ایک بار پھر تیزی سے ابتری کا شکار ہو سکتی ہے۔
یوں یہ اپگریڈنگ زیادہ علامتی نوعیت رکھتی ہے بنسبت کسی انقلابی تبدیلی کے، جو اگرچہ فوری ڈیفالٹ کے خطرے سے ایک قدم پیچھے ہٹنے کی نشانی ہے، مگر تاحال معاشی معمولات کی مکمل بحالی سے کوسوں دور ہے۔
ریٹنگ میں بہتری کے بعد مارکیٹ کا ردعمل محتاط رہا۔ روپے نے امریکی ڈالر کے مقابلے میں معمولی بہتری دکھائی، جبکہ پاکستان کے 2026 یوروبانڈ کی پیداوار میں 25 بیسس پوائنٹس کی کمی ہوئی، جو سرمایہ کاروں کے اعتماد میں ہلکے درجے کی بہتری کو ظاہر کرتی ہے۔
تجزیہ کاروں کا کہنا ہے کہ اگرچہ ریٹنگ میں تبدیلی سے پورٹ فولیو سرمایہ کاری میں بتدریج اضافہ اور دوطرفہ مذاکرات میں نرمی آ سکتی ہے، تاہم یہ تنہا اقدام پاکستان کو سستے بین الاقوامی قرضوں تک دوبارہ رسائی دلانے کے لیے کافی نہیں ہوگا۔
یاد رہے موڈیز نے اگست 2024 میں بھی پاکستان کی ریٹنگ Caa3 سے Caa2 کر دی تھی، جس کے فوراً بعد آئی ایم ایف کا نیا قرض پروگرام منظور ہوا تھا۔
آج کی اپگریڈنگ اسی تسلسل کا حصہ ہے لیکن ماہرینِ معیشت خبردار کرتے ہیں کہ 2026 تک اصلاحاتی نظم و ضبط کو برقرار رکھے بغیر یہ استحکام عارضی ثابت ہو سکتا ہے۔
موڈیز کی ریٹنگ کو سمجھنا: Caa1 کا مقام کیا ہے؟
موڈیز دنیا بھر کے ممالک کی خودمختار کریڈٹ ریٹنگ جاری کرتی ہے، جو یہ ظاہر کرتی ہے کہ کوئی ملک اپنے قرضے کس حد تک ادائیگی کی صلاحیت اور ارادے رکھتا ہے۔ ریٹنگ کا پیمانہ Aaa (بہترین) سے شروع ہو کر C (کم ترین) تک جاتا ہے:
Aaa، Aa1-Aa3، A1-A3: قرض کی ادائیگی کی صلاحیت بہت مضبوط یا تسلی بخش
Baa1-Baa3: نسبتاً کم شرحِ سود پر قرض کی سہولت
B1-B3: نمایاں کریڈٹ رسک، منفی حالات کا زیادہ اثر
Caa1-Caa3: بہت زیادہ کریڈٹ رسک، ادائیگی کے لیے سازگار حالات پر انحصار
Ca: ڈیفالٹ کے بہت قریب یا اس میں داخل، کچھ حد تک ریکوری ممکن
C: مکمل ڈیفالٹ، قرض کی ادائیگی کی امید نہ ہونے کے برابر