اداریہ

قرض، ڈالرز اور مبہم موقف

شائع August 11, 2025 اپ ڈیٹ August 11, 2025 12:16pm

یہ بات اب بالکل واضح ہو گئی ہے کہ گزشتہ گیارہ ماہ کے دوران اسٹیٹ بینک نے مقامی فارن ایکسچینج مارکیٹ سے خاموشی سے 7.2 ارب ڈالر سے زائد رقم نکالی، جو زیادہ تر قرضوں کی ادائیگی کے لیے استعمال ہوئی۔

مارکیٹس کو طویل عرصے سے اس بات کا شبہ تھا، اور اب اس شبہ کی تصدیق کرنے والا ایک واضح اعداد و شمار سامنے آ گیا ہے۔ تاہم، جو چیز اب تک واضح نہیں ہوئی، وہ اس مداخلت کے طریقہ کار اور خاص طور پر اس کے مالیاتی اثرات ہیں۔ اگر یہ ڈالر نئے تخلیق شدہ روپوں کے ذریعے حاصل کیے گئے ہیں، جیسا کہ ماضی کے رجحانات ظاہر کرتے ہیں، تو اس کے مہنگائی پر پڑنے والے اثرات اسٹیٹ بینک کی رپورٹس میں شامل ہونا لازمی تھے، لیکن ایسا نہیں ہوا۔

نظریاتی طور پر اس طرح کا ڈالرز کا ذخیرہ کرنا کسی بھی مرکزی بینک کی ادائیگیوں کے توازن اور قرضوں کی ذمہ داریوں کو سنبھالنے کی کوشش کا حصہ ہوتا ہے۔ تاہم، جب ملکی منڈیوں سے اتنے بڑے پیمانے پر—مثلاً ایک ماہ میں 1.1 ارب ڈالر سے زائد—ڈالرز حاصل کیے جائیں اور اس کے مالیاتی اثرات کے بارے میں کوئی واضح معلومات فراہم نہ کی جائیں، تو یہ مالیاتی چالاکی تصور کی جاتی ہے۔ اسٹیٹ بینک کے پاس ڈالرز اتنی مقدار میں خریدنے کے چند ہی طریقے ہیں، جن میں زیادہ تر روپے کی فراہمی میں اضافہ شامل ہوتا ہے۔ جب تک اس اضافے کو مکمل کنٹرول نہ کیا جائے، ملکی مالیاتی نظام میں روپیہ کی فراہمی بڑھتی ہے۔ اسٹیٹ بینک کے عوامی بیانات میں کہیں بھی اس اضافے کو قابو میں رکھنے کی کوئی وضاحت نہیں ملتی۔

یہ بات بھی قابل غور ہے کہ اس مداخلت کا صرف ایک چھوٹا حصہ ہی زر مبادلہ ذخائر میں تبدیل ہوا — ایک ارب ڈالر سے کم۔ باقی رقم بیرونی قرضوں کی ادائیگیوں میں خرچ ہو گئی۔ اس کا مطلب یہ ہے کہ اصل مقصد ذخائر بڑھانا نہیں بلکہ مالی ذمہ داریوں کو سنبھالنا تھا۔ یہ ٹھیک ہے، لیکن پھر اس بات کو واضح کیا جانا چاہیے۔ اسٹیٹ بینک نے یہاں مالیاتی کردار ادا کیا، نہ کہ صرف مانیٹری کردار۔ اس سے ایک سوال جنم لیتا ہے: کیا یہ اقدام آزادانہ طور پر کیا گیا، یا مالیاتی وزارت کے تحت عملدرآمد تھا؟

مہنگائی کا پہلو نظر انداز کرنا مشکل ہے۔ کئی مہینوں کی سست روی کے بعد، عمومی مہنگائی دوبارہ بڑھنے لگی ہے۔ ابھی تو کوئی شدید خطرہ نہیں ہے، مگر یہی وہ صورتحال تھی جس کی وجہ سے پچھلی بار مہنگائی میں اضافہ ہوا تھا۔ تکنیکی وجوہات کے پیچھے چھپی ہوئی نقد رقوم کی مسلسل فراہمی نے مرکزی بینک کے اعتراف کے بغیر حقیقی معیشت میں شامل ہو کر مہنگائی کو بڑھاوا دیا۔ اس کے نتیجے میں ایک شدید مہنگائی کا بحران آیا جس میں پالیسی بنانے والے وقت پر موثر اقدامات کرنے میں ناکام رہے۔ اور اس بحران کے گہرے اثرات — جہاں مہنگائی 30 فیصد سے زائد کئی ماہ تک برقرار رہی — آج بھی یاد کیے جاتے ہیں۔

ایسے مرکزی بینک کے لیے جس نے بارہا شفافیت اور خودمختاری کا دعویٰ کیا ہے، اس معاملے پر خاموشی تشویش کا باعث ہے۔ عوام کا حق ہے کہ وہ جانیں: کیا اس ڈالر کی خریداری کے ساتھ ساتھ روپے کی لیکویڈیٹی کو برابر مقدار میں نکالا گیا؟ اگر ایسا نہیں ہوا تو اس مداخلت کے تحت مہنگائی کی پیش گوئیاں کیا تھیں؟ کیا مانیٹری پالیسی کمیٹی نے اس حکمت عملی کی منظوری دی، یا یہ کارروائی ریکارڈ سے ہٹ کر، مالیاتی توازن کے بڑے منصوبے کا حصہ تھی؟ اب تک اس حوالے سے کوئی وضاحت نہیں دی گئی۔

یہ ریزروز یا قرضوں کے انتظام کی مخالفت نہیں، کیونکہ یہ ایک لازمی اور عملی ضرورت ہے۔ اصل مسئلہ اس نظام کی عدم موجودگی یا کمزوری کا ہے جو ان اہداف کے حصول کے طریقہ کار کو قابو میں رکھتا ہو۔ کیونکہ ایک ایسا ملک جو ماضی کی مالی غلطیوں کے اثرات سے اب بھی دوچار ہے، وہاں عوام کا اعتماد صرف نتائج پر نہیں بلکہ اس عمل کی شفافیت اور طریقہ کار پر بھی منحصر ہوتا ہے اور جب یہ عمل خاموشی سے ایف ایکس مارکیٹ میں مداخلت کی شکل اختیار کر لیتا ہے، تو یہ اسی ادارے کی ساکھ اور عوامی اعتماد کو نقصان پہنچاتا ہے جو معیشت میں استحکام لانے کا فرضی ہے۔

اگر اسٹیٹ بینک کی کارروائیاں، چاہے براہِ راست ہوں یا بالواسطہ، مہنگائی میں اضافہ کا سبب بن رہی ہیں تو اسے کھل کر بتانا چاہیے۔ اور اگر ایسا نہیں ہو رہا تو یہ واضح کرنا چاہیے کہ اس نے اس خطرے سے کیسے بچاؤ کیا ہے۔ بغیر وضاحت کے گمان اور قیاس آرائیاں جنم لیتی ہیں، جو ایک نازک معاشی ماحول کے لیے انتہائی نقصان دہ ثابت ہو سکتی ہیں۔

کاپی رائٹ بزنس ریکارڈر 2025