حج درخواستوں کے وصولی کے دوسرے مرحلے کا آغاز ہو گیا ہے۔ خواہشمند عازمین وزارت مذہبی امور کے آن لائن پورٹل اور نامزد بینکوں کے ذریعے اپنی درخواستیں ہفتہ تک جمع کرا سکتے ہیں۔

اس مرحلے میں غیر رجسٹرڈ عازمین بھی اپنی درخواستیں جمع کرا سکتے ہیں۔ ریڈیو پاکستان کے مطابق، بیرون ملک مقیم پاکستانی بھی قریبی رشتہ دار کے ذریعے نامزد بینکوں کے توسط سے حج کے لیے درخواست دے سکتے ہیں۔ بیرون ملک مقیم افراد کو پاکستان آمد پر میڈیکل فٹنس سرٹیفکیٹ جمع کرانا ہوگا۔

حج پالیسی 2026

وفاقی وزیر مذہبی امور سردار محمد یوسف نے 30 جولائی کو اسلام آباد میں بتایا تھا کہ پاکستان کا حج کوٹہ 2026 کے لیے 179,210 مقرر ہے، تاہم اس کا حتمی اعلان سعودی حکام کریں گے۔

سرکاری اسکیم کا کوٹہ 119,210 اور نجی اسکیم کا 60,000 ہوگا۔ سرکاری اسکیم میں 38-42 دن کا طویل پیکیج اور 20-25 دن کا مختصر پیکیج شامل ہوگا۔ 12 سال سے کم عمر بچوں کو اس سال حج کی اجازت نہیں ہوگی۔

انہوں نے بتایا کہ سرکاری اسکیم کے پیکیج کی تخمینی لاگت 11.5 سے 12.5 لاکھ روپے کے درمیان ہوگی، جو سروس فراہم کرنے والوں سے معاہدوں کی حتمی منظوری سے مشروط ہے۔ بیرون ملک عازمین نامزد بینک اکاؤنٹس میں رقم بھیج سکیں گے۔ سعودی عرب کی منظور شدہ ویکسین لگوانا لازمی ہوگا۔

”روٹ ٹو مکہ“ سہولت اسلام آباد اور کراچی ہوائی اڈوں پر جاری رہے گی۔ وزارت مذہبی امور کی مانیٹرنگ ٹیم حج آپریشنز کی کارکردگی کا جائزہ لے گی، اور شکایات کے لیے شفاف اور مؤثر نظام موجود ہوگا۔

حج کیا ہے؟

حج ایک سالانہ مذہبی فریضہ ہے جو دنیا بھر کے لاکھوں مسلمان مکہ مکرمہ میں انجام دیتے ہیں۔ یہ اسلامی قمری سال کے 12ویں مہینے میں ادا کیا جاتا ہے۔ عیدالاضحیٰ حج کا اختتامی مرحلہ ہے، جب حضرت ابراہیمؑ کی قربانی کی یاد میں جانور ذبح کیے جاتے ہیں اور گوشت غربا میں تقسیم کیا جاتا ہے۔