غیر قانونی کرنسی ڈیلرز کے خلاف کریک ڈاؤن،ایک اور ملزم گرفتار
- یہ پیش رفت اُس وقت سامنے آئی جب ایک روز قبل ایک عدالت نے 3 غیر قانونی کرنسی ڈیلرز کو 5 ، 5 سال قید اور فی کس 10 لاکھ روپے جرمانے کی سزا سنائی ہے
وفاقی تحقیقاتی ایجنسی (ایف آئی اے) نے ہفتے کے روز اطلاع دی ہے کہ اس کے لاہور سرکل نے ایک غیر قانونی کرنسی ڈیلر کو گرفتار کر لیا ہے، جو مبینہ طور پر غیر قانونی طریقے (ہنڈی/حوالہ) سے کرنسی کی اسمگلنگ میں ملوث تھا۔
یہ پیش رفت ایک دن بعد سامنے آئی ہے جب ایک پاکستانی عدالت نے تین غیر قانونی کرنسی ڈیلرز کو غیر قانونی زرمبادلہ کاروبار میں ملوث ہونے پر5 سال قید اور فی کس 10 لاکھ روپے جرمانے کی سزا سنائی ہے۔
ایف آئی اے سمیت قانون نافذ کرنے والے اداروں کی جانب سے گزشتہ دو ہفتوں کے دوران اب تک 4 غیر قانونی کرنسی ڈیلرز کی گرفتاریاں ہو چکی ہیں، جو کہ ملک بھر میں غیر قانونی کرنسی کے کاروبار اور اسمگلنگ کے خلاف جاری کریک ڈاؤن کا حصہ ہیں۔
قانون نافذ کرنے والے اداروں نے پاکستانی روپے کو امریکی ڈالر اور دیگر عالمی کرنسیوں کے مقابلے میں مستحکم کرنے کے لیے غیر قانونی کرنسی کاروبار کے خلاف جاری کریک ڈاؤن کو مزید تیز کر دیا ہے۔
ایف آئی اے کی جانب سے ہفتہ کے روز جاری بیان کے مطابق، ایف آئی اے کارپوریٹ کرائم سرکل لاہور نے اعظم کلاتھ مارکیٹ میں کارروائی کرتے ہوئے ایک مشتبہ شخص کو گرفتار کیا، جو ہنڈی/حوالہ کے ذریعے کرنسی اسمگلنگ میں ملوث تھا۔
گرفتار ملزم کی شناخت گل امیر کے نام سے ہوئی ہے، جو خیبرپختونخوا کے شہر پشاور کا رہائشی ہے۔
کارروائی کے دوران 64 لاکھ روپے مالیت کی پاکستانی کرنسی برآمد کی گئی، جب کہ ہنڈی حوالہ کی رسیدیں اور دیگر ڈیجیٹل شواہد بھی ضبط کیے گئے۔
ایف آئی اے کا کہنا ہے کہ ملزم کو حراست میں لے کر تفتیش کا آغاز کر دیا گیا ہے، جب کہ اس کے دیگر ساتھیوں کی گرفتاری کے لیے چھاپے مارے جا رہے ہیں۔
یاد رہے کہ ایک روز قبل، سکھر کی عدالت نے تین غیر قانونی کرنسی ڈیلرز کو پانچ سال قید اور فی کس 10 لاکھ روپے جرمانے کی سزا سنائی تھی۔
سزا پانے والوں میں قمر شہزاد، محمد ذیشان اور زبیر اصغر شامل ہیں، جن کے خلاف ایف آئی اے کمپوزٹ سرکل سکھر نے مقدمہ درج کیا تھا۔
تازہ کارروائیوں کے باعث اوپن مارکیٹ اور انٹر بینک میں پاکستانی روپے کی قدر میں حالیہ دنوں میں بہتری دیکھنے میں آئی ہے۔
اسٹیٹ بینک آف پاکستان (ایس بی پی) کے اعداد و شمار کے مطابق، غیر قانونی کرنسی ڈیلرز کے خلاف 23 جولائی 2025 سے شروع ہونے والے کریک ڈاؤن کے بعد سے اب تک روپے نے امریکی ڈالر کے مقابلے میں مجموعی طور پر 2.4 روپے کی بحالی حاصل کی ہے۔
انٹر بینک مارکیٹ میں جمعہ کے روز ڈالر کی قیمت 282.5 روپے پر بند ہوئی، جو کہ 22 جولائی 2025 کو 284.9 روپے تھی۔
اس سے قبل یکم جون 2025 سے 22 جولائی تک کے سات ہفتوں میں روپیہ تقریباً 3 روپے فی ڈالر کی قدر کھو چکا تھا۔
23 جولائی کو ”بزنس ریکارڈر“ سے گفتگو میں ایکسچینج کمپنیز ایسوسی ایشن آف پاکستان (ای سی اے پی) کے چیئرمین ملک محمد بوستان نے بتایا کہ انہوں نے کرنسی ڈیلرز کے وفد کی قیادت کرتے ہوئے آئی ایس آئی کے ڈائریکٹر جنرل کاؤنٹر انٹیلیجنس (ڈی جی سی) سے اسلام آباد میں ملاقات کی۔
ای سی اے پی کے جاری کردہ بیان کے مطابق ملک بوستان نے ڈی جی سی کو ایران اور افغانستان کو غیر قانونی طور پر ڈالرز کی اسمگلنگ کے متعلق آگاہ کیا۔
بیان کے مطابق اوپن مارکیٹ میں بلیک ریٹ بڑھنے کی وجہ سے قانونی کرنسی ڈیلرز کے پاس ڈالر کی دستیابی روز بروز کم ہوتی جا رہی ہے۔
بیان میں مزید کہا گیا کہ اس پر جنرل فیصل نصیر (ڈی جی کاؤنٹر انٹیلیجنس) نے فوری طور پر قانون نافذ کرنے والے اداروں کو کرنسی اسمگلروں کے خلاف کریک ڈاؤن کا حکم دیا اور گرفتاریوں کی ہدایت کی۔