این جی سی نے ایرانی کمپنی کیساتھ ثالثی ایوارڈ کی ادائیگی کے تنازع کے پرامن حل کا مطالبہ کر دیا
ذرائع نے بزنس ریکارڈر کو بتایا ہے کہ نیشنل گرڈ کمپنی (این جی سی)، جو پہلے این ٹی ڈی سی کے نام سے جانی جاتی تھی، نے وفاقی حکومت کو تجویز دی ہے کہ ایرانی کمپنی گام اراک کے ساتھ واجب الادا ثالثی ایوارڈ کی ادائیگی کے تنازع کو اس کمیٹی کے ذریعے حل کیا جائے جو ایران-پاکستان گیس منصوبے کے تحت عدالت سے باہر تصفیہ پر کام کر رہی ہے۔
ذرائع کے مطابق، 17 جولائی 2025 کو این جی سی کے حق میں گام اراک انڈسٹریل کمپنی کے خلاف غیر ملکی ثالثی ایوارڈ کے تحت واجب الادا رقم سے متعلق اجلاس کے بعد، این جی سی نے اسلام آباد میں حکومت کو ایک تفصیلی رپورٹ پیش کی جس کا مقصد ایرانی قونصل خانے کو خوش اسلوبی سے تصفیے میں معاونت فراہم کرنا ہے۔
یہ معاملہ انٹرنیشنل چیمبر آف کامرس (آئی سی سی) کے جاری کردہ ثالثی کیس نمبر 2272412F IAYZ سے متعلق ہے، جس کی سماعت پیرس میں ہوئی اور ایوارڈ 21 اپریل 2020 کو سنایا گیا جبکہ اصلاحی ضمیمہ 28 جولائی 2020 کو جاری کیا گیا۔ تازہ ترین مالیاتی حسابات کے مطابق، 30 جون 2025 تک واجب الادا کل رقم، سود سمیت، تقریباً 3.658 ملین ڈالر بنتی ہے۔
این جی سی نے کہا ہے کہ متعدد یاد دہانیوں اور مذاکراتی کوششوں کے باوجود گام اراک نے ایوارڈ پر عمل درآمد نہیں کیا۔ قانونی مشیروں کی معاونت سے، نیشنل گرڈ کمپنی آف پاکستان قومی و عوامی مفادات کے تحفظ کے لیے مذاکراتی تصفیے پر مرکوز مسلسل رابطے جاری رکھے ہوئے ہے۔
این جی سی کے چیف لاء آفیسر نے اس معاملے کی پیچیدگیوں اور ملک و بیرون ملک اختیار کیے گئے قانونی راستوں پر شفاف اور تعمیری گفتگو کو سراہا ہے۔
کمپنی نے مزید بتایا کہ اسلام آباد میں ایرانی سفارت خانے کی جانب سے موصول ہونے والی یقین دہانیاں، جو ایران کے چیمبرز آف کامرس کے ذریعے گام اراک سے رابطے کی کوششوں کا نتیجہ ہیں، تعمیل کی جانب مثبت اور عملی پیش رفت کی علامت ہیں۔
بورڈ آف ڈائریکٹرز کی ہدایات کے مطابق جن میں خوش اسلوبی سے تصفیہ کو ترجیح دی گئی ہے، این جی سی نے تازہ ترین قانونی و اسٹریٹجک فریم ورک کی بنیاد پر ایرانی کمپنیوں اور حکام سے براہِ راست رابطوں کے ذریعے مخصوص تصفیے کے راستے متعین کیے ہیں:(i) ایرانی وزارتوں کے ذریعے سفارتی روابط: این جی سی، وزارتِ توانائی اور اکنامک افیئرز ڈویژن کے تحت ایران کی قومی توانائی کمپنی توانیر سے رابطہ کرے گی تاکہ حکومت سے حکومت کی سطح پر مکالمے کے ذریعے ایوارڈ کی وصولی، تعاون اور عمل درآمد کو یقینی بنایا جا سکے۔
۔(ii) تہران میں پاکستانی سفارت خانہ متعلقہ ایرانی حکام اور گام اراک سے براہِ راست رابطے میں معاونت فراہم کرے گا، جو تعمیل کی ترغیب، رابطوں کی تیز رفتاری، اور خوش اسلوبی سے تصفیہ کے فروغ کے لیے انتہائی اہم ہے۔
۔ (iii) اسلام آباد میں ایرانی سفارت خانے اور دیگر سفارتی ذرائع، بشمول ایران کے چیمبرز آف کامرس، کے ذریعے متوازی روابط قائم کیے جائیں تاکہ تعمیل کے لیے زیادہ رسائی اور دباؤ پیدا کیا جا سکے۔
۔(iv)وزیرِاعظم کی ہدایت کے تحت ایران-پاکستان گیس منصوبے کی آؤٹ آف کورٹ سیٹلمنٹ کے لیے قائم کمیٹی کی اہمیت کو اجاگر کیا گیا ہے، جو باہمی تعاون بڑھانے اور دونوں فریقوں کے لیے فائدہ مند تصفیے کے مواقع فراہم کرنے میں کلیدی کردار ادا کر سکتی ہے۔
این جی سی نے ایرانی سفارت خانے کی جاری کوششوں کی معاونت اور مکمل شفافیت کو یقینی بنانے کے لیے 30 جون 2025 کے حتمی ایوارڈ کی تفصیلی رپورٹ بھی پیش کی، جس کے مطابق واجب الادا رقم 88 کروڑ 53 لاکھ 69 ہزار 369 روپے اور 31 لاکھ 16 ہزار 158 ڈالر ہے، تاہم تاخیر سے ادائیگی کے چارجز کے بعد یہ رقم بڑھ کر 1 ارب 3 کروڑ 93 لاکھ 78 ہزار 788 روپے اور 36 لاکھ 58 ہزار 496 ڈالر ہو گئی ہے۔
این جی سی کے چیف لاء آفیسر نے اپنے خط میں کہا ہم ایرانی سفارت خانے سے درخواست کرتے ہیں کہ وہ اس معاملے پر تعاون جاری رکھے، ہمیں یقین ہے کہ ان کی شمولیت تعمیری گفتگو کو فروغ دے گی، GAM ARAK کی تعمیل کو یقینی بنائے گی، اور تمام متعلقہ فریقین کے لیے بروقت اور فائدہ مند حل ممکن بنائے گی۔
کاپی رائٹ بزنس ریکارڈر 2025