وفاقی وزیر برائے تجارت جام کمال خان نے لکڑی کے تجارتی شعبے پر زور دیا ہے کہ وہ جنگلات کی ترقی میں فعال کردار ادا کرے جبکہ تجارتی مسائل کے حل کے لیے حکومت کی بھرپور حمایت کا یقین بھی دلایا ہے۔

یہ بات وفاقی وزیر تجارت نے آل پاکستان ٹمبر ٹریڈرز ایسوسی ایشن (اے پی ٹی ٹی اے) کے چیئرمین شرجیل گوپلانی کی قیادت میں ایک وفد سے ملاقات کے دوران کہی۔

وفد نے درپیش اہم مسائل کی نشاندہی کی، جن میں بینکنگ رکاوٹیں، اجازت ناموں میں تاخیر، شپمنٹ مسائل، دستاویز کی پیچیدگیاں اور محکمہ تحفظ نباتات (ڈی پی پی) سے متعلق مشکلات شامل ہیں۔

چیئرمین گوپلانی نے بتایا کہ پاکستان اپنی ملکی ضرورت پوری کرنے کے لیے لکڑی کی درآمدات پر انتہائی انحصار کرتا ہے، جس میں سب سے بڑا سپلائر امریکہ ہے، اس کے بعد جرمنی، سویڈن، فن لینڈ، فلپائن اور کینیڈا شامل ہیں۔ انہوں نے کہا کہ ملک کا صرف 1.9 فیصد رقبہ جنگلات سے آراستہ ہے جو قومی استعمال کی ضروریات سے کہیں کم ہے۔

اس موقع پر جام کمال خان نے وفد کو یقین دلایا کہ حکومت ان مسائل کے حل کے لیے پُرعزم ہے اور متعلقہ اداروں کو ہدایت کی کہ اجازت ناموں اور دستاویزات کے مسائل کو فوری طور پر حل کیا جائے۔

وفاقی وزیر نے مقامی جنگلات کے رقبے میں اضافے کی اہمیت پر زور دیتے ہوئے کہا کہ ہمیں اپنی آئندہ نسلوں کے لیے اس ذمہ داری کو سنجیدگی سے لینا ہوگا۔ انہوں نے ایسوسی ایشن سے درخواست کی کہ جنگلات کی ترقی کو اپنی طویل المدتی حکمت عملی کا حصہ بنائیں اور حکومت کی جانب سے مکمل تعاون کی یقین دہانی کرائی۔

انہوں نے متعلقہ اداروں کو ہدایت دی کہ بلوچستان کے مختلف علاقوں، خاص طور پر سیلاب زدہ اور بنجر زمینوں میں سروے کر کے ان کی جنگلات کی کاشت کے لیے موزونیت کا جائزہ لیا جائے۔

وفاقی وزیر نے ایسے چند علاقوں کی نشاندہی بھی کی جہاں غیر استعمال شدہ صلاحیت موجود ہے اور تیز رفتار بڑھنے والی درختوں کی اقسام جیسے سفیدا اور سُبابل (سبرس) کی کاشت کی تجویز پیش کی۔

ایسوسی ایشن نے وفاقی وزیر کو آگاہ کیا کہ لکڑی کو ایک ضروری آئٹم کے طور پر سمجھا جاتا ہے اور اس وقت یہ کسٹم ڈیوٹی سے مستثنیٰ ہے۔