نریندر مودی کے لیے آج کی دنیا شاید ویسی نہیں رہی جیسی چند ماہ پہلے تھی۔ جب ڈونلڈ ٹرمپ دوبارہ وائٹ ہاؤس کی دہلیز پر پہنچے، تو نئی دہلی میں ایک خوش کن سنسنی دوڑ گئی تھی۔
اکثر تجزیہ کاروں کا خیال تھا کہ ٹرمپ کی دوسری مدتِ صدارت بھارت کے لیے تزویراتی طور پر ایک سنہری موقع ہوگی۔ پہلے دورِ حکومت میں مودی اور ٹرمپ کے درمیان قائم ہونے والی ذاتی ہم آہنگی سیاسی داستان بن چکی تھی۔ بھارت ایک کثیر القطبی عالمی منظرنامے میں ابھرتے اثرورسوخ اور وسیع تر دوستیوں کی کہانی پر سوار تھا، زیادہ دوست، زیادہ اثر اور پہلے سے کہیں زیادہ سفارتی وزن۔
لیکن وقت کا پہیہ گھوما، اور اگست تک وہ پُراعتماد لہجہ الجھن میں بدل چکا ہے۔ ٹرمپ 2.0 کے ساتھ جس گرمجوشی کی امید تھی، وہ کبھی پنپ نہ سکی۔ اس کی جگہ معاشی چوٹ نے لے لی۔ 25 فیصد کی بھاری ڈیوٹی نے بھارتی برآمدات کو سخت نقصان پہنچایا اور ٹرمپ نے عندیہ دیا ہے کہ ادویات اور سیمی کنڈکٹرز پر بھی اسی نوعیت کی پابندیاں عائد کی جائیں گی، یہ محض بھارت کے خلاف نہیں بلکہ ایک وسیع تجارتی محاذ آرائی کا حصہ تھا۔
اصل دھچکا تو اُس وقت لگا جب ٹرمپ نے ان پابندیوں کو روسی تیل کی بھارتی خریداری سے جوڑ دیا، نئی دہلی پر ”جنگی مشین کو ایندھن فراہم کرنے“ کا الزام عائد کیا اور ثانوی پابندیوں کی دھمکی دے دی۔
اسی دوران ٹرمپ نے پاکستانی فوج کے سربراہ کے لیے سرخ قالین بچھایا، اسلام آباد کے تحمل کی تعریف کی اور یہاں تک کہا کہ وہ ( ٹرمپ ) نوبیل امن انعام کے مستحق ہیں، اور پاکستان نے اسے نہ صرف خوش دلی سے سنا، بلکہ باضابطہ پالیسی بنا کر ٹرمپ کی نامزدگی کا اعلان کر دیا۔ نئی دہلی میں بیٹھے پالیسی سازوں کے لیے، جو خاموشی سے یہ ماننے لگے تھے کہ وہ خطے کی بیانیہ سازی میں تنہا رہنمائی کر سکتے ہیں، یہ محض سفارتی بے ادبی نہیں، بلکہ ذلت آمیز لمحہ تھا۔
اب بھارتی حکام ہاتھ پاؤں مار رہے ہیں، تجارتی مذاکرات کو بچانے کی کوششیں، برآمدات پر ترغیبات میں اضافہ اور بیک ڈور مفاہمت کے امکانات تلاش کیے جا رہے ہیں۔ بات ہو رہی ہے امریکی منڈی کے لیے دودھ کی مصنوعات کے کچھ حصے کھولنے کی اور ڈیجیٹل تجارت پر مزید نرمی کی۔ مگر اس پورے عمل میں کوئی حکمت نظر نہیں آتی۔ یہ دفاعی ہے، عجلت میں ہے اور ردِعمل پر مبنی ہے۔ یہی کیفیت بھارت کی موجودہ ”برِکس“ پالیسی کی ہے، جہاں مغرب اور روس کے درمیان توازن قائم رکھنا روز بروز مشکل ہوتا جا رہا ہے۔ ٹرمپ کی روسی توانائی خریداروں کے خلاف مہم نے بھارت کی غیر جانبدار توانائی پالیسی کو نشانے پر لا کھڑا کیا ہے، اور ماسکو، یہ بدلتا منظر خاموشی سے دیکھ رہا ہے۔
بات صرف بھارت کی بیرونی حکمتِ عملی پر دباؤ کی نہیں۔ اصل مسئلہ یہ ہے کہ نئی دہلی نے یہ اندازہ ہی نہیں لگایا تھا کہ حالات اس قدر تیزی سے اس کے خلاف پلٹ سکتے ہیں۔ اسی لیے سوال اٹھتا ہے کہ یہ گراوٹ آخر کب شروع ہوئی؟
جواب شاید نئی دہلی کے لیے پریشان کن ہو، مگر حقیقت یہ ہے کہ یہ سب اُس وقت شروع ہوا جب بھارت، پاکستان کے خلاف ایک عسکری مہم جوئی کے بعد شرمندگی اٹھا کر لوٹا۔ جو کچھ طاقت کے مظاہرے کے طور پر کیا گیا تھا، وہ ایک غلط تخمینے کی عملی مثال بن گیا۔ پاکستان کا ردعمل اگرچہ محتاط ، لیکن موثر ضرور تھا اور کئی برسوں بعد پہلی بار بھارت پرعزم نہیں بلکہ جھنجھلاہٹ کا شکار نظر آیا۔
اس کے بعد سے حالات سنبھل نہیں پائے۔ ٹرمپ کے ساتھ تعلقات میں تناؤ، روس کے ساتھ غیر یقینی توازن، بین الاقوامی سطح پر بڑھتی چھان بین، اور تجارتی کمزوریاں، سب اسی ایک ناکامی کے بعد سے اُبھر کر سامنے آئی ہیں۔ ایک وقتی چُوک، ایک بڑی اسٹریٹجک تبدیلی کا سبب بن گئی، اور بھارت کو احساس ہوا کہ وہ اپنی کہانی پر جتنا کنٹرول سمجھتا تھا، شاید وہ اتنا نہیں ہے۔
یہ بے اختیاری اب صرف سفارتکاری تک محدود نہیں، معیشت تک پھیل چکی ہے۔ دنیا کی چوتھی بڑی معیشت ہونے کے ناطے بھارت کی کوشش ہے کہ تجارتی مراعات حاصل کی جائیں۔ لیکن معاشی درد کے ساتھ ساتھ سیاسی نقصان کا خدشہ بھی کم نہیں۔ ایسے وقت میں جب غیر ملکی سرمایہ کاری کا انحصار استحکام اور قانون کی حکمرانی کے تاثر پر ہے، نئی دہلی کو اب خود کو ان سرخیوں سے بچانا پڑ رہا ہے جو اختیارات کے ناجائز استعمال، سنسرشپ اور بیرونِ ملک خفیہ کارروائیوں سے متعلق ہیں۔ یہ کہانیاں دیرپا نہ بھی ہوں، مگر اثر ضرور چھوڑتی ہیں۔
اور جب دنیا بھارت کے عالمی کردار کو دیکھنے میں مصروف تھی، اندرونِ ملک صورتِ حال خاموشی سے بگڑتی جا رہی تھی۔ اندرونی فضاء زیادہ سخت، زیادہ جابرانہ ہو چکی ہے۔ سنسرشپ کا جال اب بھارت کو آن لائن آزادی کا سب سے سخت گیر نگران بنا چکا ہے۔ ایلون مسک کے سوشل میڈیا پلیٹ فارم ایکس کے ساتھ تصادم نے اس کنٹرول کی گہرائی واضح کی، کارٹونز سے لے کر مکمل خبریں تک، ”اشتعال انگیزی“ کے نام پر ہٹائی جا رہی ہیں۔ اختلافِ رائے اب زیر بحث نہیں بلکہ ڈیلیٹ بٹن کے نیچے دب چکا ہے۔
یہ تضاد حیران کن ہے۔ باہر کی دنیا بھارت کو سب سے بڑی جمہوریت اور تیز ترین بڑھتی معیشت کے طور پر دیکھ رہی ہے، لیکن اندرونی ادارے کمزور اور مشکوک ہوتے جا رہے ہیں۔ کئی سال تک اس تضاد کو معیشت کی چمک اور سفارتی کامیابیوں سے چھپایا گیا۔ مگر اب جب بیرونی محاذوں پر کامیابیاں تھم گئی ہیں، اندرونی تناؤ چھپائے نہیں چھپ رہا۔
آج جو منظرنامہ ہمارے سامنے ہے وہ بھارت کی ریاستی حکمت عملی کا ایک مکمل امتحان ہے۔
مودی، جنہیں کبھی بھارت کے پُراعتماد عالمی عروج کے معمار تصور کئے جاتے تھے، آج دفاعی پوزیشن سنبھالنے پر مجبور دکھائی دیتے ہیں۔ ٹرمپ اُن کا کھلے عام مذاق اُڑا رہے ہیں۔ پاکستان، جو کبھی سفارتی طور پر حاشیے پر تھا، آج واشنگٹن کی تعریفوں میں نہایا ہوا ہے۔ روس محتاط دکھائی دیتا ہے، برِکس کا مستقبل غیر یقینی نظر آ رہا ہے۔ اور یہ خیال کہ ٹرمپ کے دوسرے دورِ صدارت سے امریکہ بھارت تعلقات کو کسی نئے دور میں داخل کرے گا، اب خوش فہمی لگتا ہے اور بدترین صورت میں، ایک تزویراتی خود فریبی۔
“اب جو کچھ ہونے جا رہا ہے، وہ نئی دہلی کی صلاحیت کے بارے میں ماضی سے کہیں زیادہ کچھ آشکار کرے گا، کہ آیا وہ سفارتی غیر یقینی صورتحال میں راستہ نکال سکتی ہے، کہ اس کا خارجہ پالیسی کا نظریہ ایک بدلتی عالمی ترتیب میں برقرار رہ سکتا ہے اور یہ کہ جب بیرونی دائو پیچ بکھرنے لگیں تو داخلی ہم آہنگی کو سنبھالا جا سکتا ہے یا نہیں۔
شور تھم چکا ہے۔ نگاہیں مرکوز ہو چکی ہیں۔ اور بھارت کا اصل امتحان اب شروع ہوتا ہے۔
کاپی رائٹ بزنس ریکارڈر، 2025