امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے اعلان کیا ہے کہ امریکہ ان ممالک سے درآمد کیے گئے سیمی کنڈکٹر چپس پر تقریباً 100 فیصد ٹیرف عائد کرے گا جو امریکہ میں پیداوار نہیں کر رہے یا پیداوار کا کوئی منصوبہ نہیں رکھتے۔ تاہم یہ ٹیرف ان کمپنیوں پر لاگو نہیں ہوگا جنہوں نے امریکہ میں فیکٹریاں لگانے کا اعلان کر رکھا ہے یا عمل درآمد کر رہی ہیں۔

ٹرمپ نے واضح کیا کہ اگر کوئی کمپنی فیکٹری بنانے کا وعدہ کرے اور اسے پورا نہ کرے تو بعد میں تمام لاگت کے حساب سے ٹیرف وصول کیا جائے گا۔

ماہرین کے مطابق یہ پالیسی بڑی اور مالی طور پر مستحکم کمپنیوں کے حق میں ہوگی۔ امریکہ میں سیمی کنڈکٹر مینوفیکچرنگ کے لیے 2022 میں 52.7 ارب ڈالر کا سبسڈی پروگرام متعارف کرایا گیا تھا، جس کے تحت متعدد بین الاقوامی کمپنیاں فیکٹریاں لگا چکی ہیں۔

نئے ٹیرف کا ہدف ممکنہ طور پر چین ہوگا، کیونکہ چینی چپس بنانے والی کمپنیاں جیسے ایس ایم آئی سی اور ہواوے، اس چھوٹ سے مستفید نہیں ہو سکیں گی۔