اسٹاک مارکیٹ میں بھرپور خریداری، 100 انڈیکس نئی بلند ترین سطح پر بند
- کے ایس ای 100 انڈیکس 558.64 پوائنٹس یا 0.39 فیصد کے اضافے سے ملکی تاریخ میں پہلی بار ایک لاکھ 45 ہزار 647 پوائنٹس پر جاپہنچا
پاکستان اسٹاک ایکسچینج (پی ایس ایکس) میں زبردست خریداری کا رجحان دیکھا گیا جسے مثبت معاشی اشارے اور کارپوریٹ آمدن میں بہتری نے مزید تقویت دی۔ جمعرات کو بینچ مارک کے ایس ای 100 انڈیکس ملکی تاریخ کی نئی بلند ترین سطح پر جاپہنچا۔
کاروباری سیشن کے بیشتر حصے میں مثبت رجحان غالب رہا، ٹریڈنگ کے دوران ایک موقع پر100 انڈیکس 146,081.02 پوائنٹس کی بلند ترین سطح پر بھی دیکھا گیا تھا۔
کاروبار کے اختتام پر کے ایس ای 100 انڈیکس 558.64 پوائنٹس یا 0.39 فیصد کے اضافے سے ملکی تاریخ میں پہلی بار ایک لاکھ 45 ہزار 647 پوائنٹس پر بند ہوا۔
خریداری کا رجحان تیل و گیس کی تلاش، آئل مارکیٹنگ کمپنیوں، بجلی کی پیداوار اور ریفائنری جیسے اہم شعبوں میں نمایاں طور پر دیکھا گیا۔ اے آر ایل، حبکو، ایم اے آر آئی، او جی ڈی سی، پی ایس او اور پی پی ایل مثبت زون میں دکھائی دیے۔
واضح رہے کہ بدھ کو اسٹاک ایکسچینج نے اپنی ریکارڈ توڑ تیزی کا سلسلہ جاری رکھا جہاں کے ایس ای 100 انڈیکس 2,051 پوائنٹس یا 1.43 فیصد کے نمایاں اضافے سے ملکی تاریخ میں پہلی بار 145,088.50 پوائنٹس پر بند ہوا۔
وزیراعظم شہباز شریف نے 100 انڈیکس کے 145,000 پوائنٹس کی تاریخی حد عبور کرنے پر اعتماد کا اظہار کیا۔
شہباز شریف نے کہا کہ اسٹاک مارکیٹ میں ریکارڈ تیزی سرمایہ کاروں کے حکومتی پالیسیوں پر اعتماد کی علامت ہے۔
وزیراعظم نے اسٹاک مارکیٹ میں تیزی کو کاروبار دوست اصلاحات کا نتیجہ قرار دیتے ہوئے کہا کہ سرمایہ کاری کو سہولت فراہم کرنا ان کی حکومت کی اولین ترجیحات میں شامل ہے۔
انٹرنیشنل مارکیٹ
ایشیائی اسٹاک مارکیٹس جمعرات کو اضافہ دیکھنے میں آیا جبکہ جاپانی حصص نئی بلند ترین سطح پر پہنچ گئے۔ یہ بہتری وال اسٹریٹ میں ٹیکنالوجی شعبے کی قیادت میں حاصل ہونے والے منافع، مثبت آمدنی کے اعداد و شمار اور امریکا میں شرح سود میں کمی کی بڑھتی ہوئی توقعات کے باعث ممکن ہوئی۔
یوکرین جنگ کے حوالے سے امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ اور روسی صدر ولادیمیر پیوٹن کے ممکنہ ملاقات کی امید نے بھی مارکیٹ کو سہارا دیا جس سے یورو کو فائدہ ہوا، جبکہ تاجر ماسکو پر پابندیوں کے امکانات کا جائزہ لیتے رہے جس کے باعث تیل کی قیمتوں پر دباؤ دیکھا گیا۔
اسی دوران مارکیٹوں نے بڑی حد تک صدر ٹرمپ کی تازہ ترین ٹیرف دھمکیوں کو نظرانداز کردیا جن میں روسی تیل کی خریداری پر بھارت پر اضافی 25 فیصد ٹیرف اور چپس پر 100 فیصد ڈیوٹی عائد کرنے کی دھمکی شامل تھی۔
جاپان کا ٹاپکس انڈیکس 0.9 فیصد کے اضافے کے ساتھ اپنی بلند ترین سطح پر پہنچ گیا جبکہ ٹیکنالوجی پر مرکوز نکیئی انڈیکس میں بھی تقریباً اتنی ہی شرح سے اضافہ دیکھنے میں آیا۔
تائیوان کا اسٹاک بینچ مارک 2.3 فیصد کے نمایاں اضافے کے ساتھ ایک سال سے زائد کی بلند ترین سطح پر پہنچ گیا جبکہ جنوبی کوریا کا کوسپی انڈیکس 0.6 فیصد بڑھ گیا۔
ہانگ کانگ کا ہینگ سینگ انڈیکس 0.4 فیصد بڑھ گیا جبکہ چین کے سرزمین میں موجود بلیو چپ اسٹاکس میں 0.3 فیصد کا اضافہ ہوا۔