بھارت کی ہمالیائی ریاست اتراکھنڈ میں منگل کو آنے والے اچانک سیلاب اور لینڈ سلائیڈنگ کے بعد بدھ کو شدید بارش نے امدادی کارروائیوں کو شدید متاثر کیا۔ ان حادثات میں کم از کم 4 افراد ہلاک اور درجنوں لاپتہ ہو چکے ہیں۔
ریسکیو ٹیمیں، جن میں فوج اور نیشنل ڈیزاسٹر ریسپانس فورس شامل ہے، دھارالی گاؤں تک پہنچنے میں مشکلات کا شکار ہیں۔ یہ گاؤں ہندو یاترا مقام گنگوتری کے راستے میں واقع ایک اہم سیاحتی مقام ہے۔ لینڈ سلائیڈنگ کے باعث اہم شاہراہیں بند ہو گئی ہیں، جبکہ مسلسل بارش امدادی سرگرمیوں میں رکاوٹ ڈال رہی ہے۔
فوج کے کرنل ہرشاوردھن کے مطابق لاپتہ افراد کی درست تعداد معلوم نہیں، لیکن ریسکیو آپریشن پوری رات جاری رہا۔ ہم لوگوں کو محفوظ مقامات پر منتقل کرنے کی کوشش کر رہے ہیں۔
مقامی میڈیا کے مطابق، ہارسِل میں قائم آرمی کیمپ بھی سیلاب کی زد میں آ گیا جہاں سے 11 فوجی اہلکار لاپتہ ہو گئے۔ فوج نے بتایا ہے کہ اضافی دستے، ڈرونز، ٹریکر ڈاگز اور دیگر آلات کے ساتھ روانہ کیے گئے ہیں تاکہ امدادی کارروائیاں تیز کی جا سکیں۔
ٹی وی چینلز پر دکھائے جانے والے مناظر میں دیکھا جا سکتا ہے کہ سیلابی پانی اور کیچڑ پہاڑوں سے نیچے آتے ہوئے گھروں اور سڑکوں کو بہا لے گیا۔ ریاستی وزیر اعلیٰ کے دفتر کی جانب سے جاری کردہ ویڈیو میں دھارالی گاؤں کی کچھ عمارتوں کو کیچڑ میں دفن ہوتے دکھایا گیا ہے۔
ماہرین موسمیاتی تبدیلی کو ان آفات کی ایک بڑی وجہ قرار دے رہے ہیں، کیونکہ اتراکھنڈ ماضی میں بھی ایسے سانحات کا شکار رہا ہے۔