بجلی کی تقسیم کار کمپنیوں (ڈسکوز) نے مالی سال 25-2024 کے دوران ترسیل و تقسیم (ٹی اینڈ ڈی) کے نقصانات کی مد میں 265 ارب روپے کا خسارہ کیا، جو گزشتہ مالی سال 24-2023 میں 276 ارب روپے تھا، یعنی 11 ارب روپے کی کمی واقع ہوئی۔
سرکاری اعداد و شمار کے مطابق، اسلام آباد الیکٹرک سپلائی کمپنی (آئیسکو) کے نقصانات 8.6 فیصد تھے جن کی مالی لاگت 5 ارب روپے رہی، لاہور الیکٹرک سپلائی کمپنی (لیسکو) کے نقصانات 13.7 فیصد (35 ارب روپے)، گوجرانوالہ الیکٹرک پاور کمپنی (گیپکو) کے 10.6 فیصد (5 ارب روپے)، فیصل آباد الیکٹرک سپلائی کمپنی (فیسکو) کے 9 فیصد (3 ارب روپے)، ملتان الیکٹرک پاور کمپنی (میپکو) کے 13.8 فیصد (14 ارب روپے)، پشاور الیکٹرک سپلائی کمپنی (پیسکو) کے 37.1 فیصد (87 ارب روپے)، حیدرآباد الیکٹرک سپلائی کمپنی (حیسکو) کے 27.9 فیصد (27 ارب روپے)، کوئٹہ الیکٹرک سپلائی کمپنی (کیسکو) کے 38.4 فیصد (52 ارب روپے)، سکھر الیکٹرک سپلائی کمپنی (سیپکو) کے 39.2 فیصد (36 ارب روپے) اور قبائلی علاقہ جات الیکٹرک سپلائی کمپنی (ٹیسکو) کے نقصانات 8.3 فیصد (0 ارب روپے) رہے۔
پاور ڈویژن کے ذرائع نے بزنس ریکارڈر کو بتایا کہ ڈسکوز کے اوسط نقصانات جو مالی سال 24-2023 میں 18.3 فیصد تھے، وہ 25-2024 میں کم ہو کر 17.6 فیصد پر آ گئے ہیں۔ مزید یہ کہ ڈسکوز کی ناقابل وصول رقم مالی سال 24-2023 میں 315 ارب روپے تھی، جو 25-2024 میں کم ہو کر 132 ارب روپے رہ گئی۔ ڈسکوز کی وصولی کی شرح 24-2023 میں 92.4 فیصد تھی، جو 25-2024 میں بڑھ کر 96.6 فیصد ہو گئی۔
وزیراعظم شہباز شریف نے مالی سال 25-2024 کے دوران نمایاں کارکردگی پر وزیر توانائی اور سیکرٹری توانائی کو تعریفی اسناد سے نوازا ہے، تاہم نیشنل الیکٹرک پاور ریگولیٹری اتھارٹی (نیپرا) نے ان اعداد و شمار پر اعتراض اٹھایا ہے۔
بجلی کے شعبے کے ریگولیٹر نے اپنی ٹیکنیکل ٹیم کو ہدایت کی ہے کہ وہ ڈسکوز کی جانب سے دعویٰ کردہ نقصانات اور ریکوری کے اعداد و شمار کی تصدیق کرے، جنہیں نیپرا مشکوک قرار دے رہا ہے۔
ایک اور مسئلہ جو وزیراعظم کی توجہ میں لایا گیا ہے وہ یہ ہے کہ پاور ڈویژن سی پیک فریم ورک کے تحت قائم چینی منصوبوں سمیت بجلی گھروں کو ادائیگیاں کرنے میں مسلسل ناکام ہو رہا ہے۔ اس کے علاوہ قطر سے درآمد کی جانے والی ایل این جی کے عدم استعمال کے باعث پیدا ہونے والا اربوں روپے کا مالی بوجھ پاکستان اسٹیٹ آئل (پی ایس او) پر منتقل کر دیا گیا ہے۔
کاپی رائٹ بزنس ریکارڈر، 2025