پاکستان

گرفتاری کے مقدمات کا جائزہ، ایف بی آر نے 2 ’شکایات ازالہ کمیٹیاں‘ قائم کر دیں

  • ایف بی آر نے دو الگ الگ نوٹیفکیشنز جاری کیے جن کے تحت مذکورہ کمیٹیوں کی تشکیل عمل میں لائی گئی۔
شائع August 3, 2025 اپ ڈیٹ August 3, 2025 10:35am

ایف بی آر نے سیلز ٹیکس فراڈ میں ملوث افراد کی گرفتاریوں اور فیکٹریوں/پیداواری یونٹس میں ان لینڈ ریونیو اہلکاروں کی تعیناتی کے معاملات کا جائزہ لینے کے لیے دو شکایات ازالہ کمیٹیاں تشکیل دے دیں

فیڈرل بورڈ آف ریونیو (ایف بی آر) نے ہفتہ کے روز دو الگ الگ نوٹیفکیشنز جاری کیے جن کے تحت مذکورہ کمیٹیوں کی تشکیل عمل میں لائی گئی۔

ٹیکس ماہرین کے مطابق گرفتاری سے پہلے منظوری دینے والی ایف بی آر کی مجوزہ اعلیٰ سطحی کمیٹی سے ان شکایات ازالہ کمیٹیوں کا کوئی تعلق نہیں۔

ایف بی آر نے شکایات ازالہ کمیٹی تشکیل دی ہے تاکہ سیلز ٹیکس ایکٹ 1990 کی دفعہ 37A کی ذیلی شقوں (8) اور (9) کے تحت اٹھائے گئے اقدامات کا جائزہ لیا جا سکے، خصوصاً ٹیکس فراڈ کے الزامات میں گرفتاریوں سے متعلق۔

یہ شق ان اختیارات سے متعلق ہے جن کے تحت سیلز ٹیکس ایکٹ کے تحت قابلِ تعزیر جرائم کی تحقیقات کی جا سکتی ہیں اور ملزم کو گرفتار کیا جا سکتا ہے۔

اسی طرح، ایف بی آر نے سیلز ٹیکس ایکٹ 1990 کی دفعہ 40B کے تحت فیلڈ فارمیشنز کی جانب سے کیے گئے اقدامات پر شکایات کے ازالے اور باقاعدہ نظرثانی کے لیے ایک اور کمیٹی بھی قائم کی ہے۔

دفعہ 37A کے تحت کمیٹی کی تفصیلات:یہ کمیٹی ایسے رجسٹرڈ افراد کے لیے ایک پلیٹ فارم کا کام کرے گی جو گرفتاریوں کے حوالے سے اپنی شکایات درج کرانا چاہتے ہیں، اور اس کا مقصد منصفانہ کارروائی کو یقینی بنانا اور ٹیکس دہندگان کی گرفتاری یا قانونی اختیار کے غلط استعمال کو روکنا ہے۔

کمیٹی کے ارکان درج ذیل ہوں گے:ممبر ان لینڈ ریونیو (آپریشنز)، ایف بی آر،ممبر لیگل ان لینڈ ریونیو، ایف بی آر،ایف پی سی سی آئی کے صدر یا ان کے نامزد کردہ نمائندہ۔متعلقہ چیمبر آف کامرس کے صدر یا نامزد نمائندہ، جہاں گرفتاری گزشتہ 15 دن کے اندر ہوئی ہو۔سیکرٹری (سیلز ٹیکس آپریشنز)، ان لینڈ ریونیو اس کمیٹی کے سیکرٹری ہوں گے مگر ان کو ووٹنگ کا اختیار حاصل نہیں ہوگا۔

کمیٹی ضرورت کے تحت بزنس نمائندے بھی شامل کر سکے گی اور ہر دو ہفتے میں کم از کم ایک بار اجلاس کرے گی تاکہ رجسٹرڈ ٹیکس دہندگان کی شکایات کا جائزہ لیا جا سکے۔

کمیٹی کی سفارشات ایف بی آر کے چیئرمین کو بھجوائی جائیں گی جو کہ کسی بھی بدانتظامی کی صورت میں متعلقہ افسران کے خلاف کارروائی کا اختیار رکھتے ہیں۔

دفعہ 40B کے تحت کمیٹی کی تفصیلات:ایف بی آر کے دوسرے نوٹیفکیشن کے مطابق اس کمیٹی کا مقصد فیلڈ فارمیشنز کی جانب سے دفعہ 40B کے تحت کیے گئے اقدامات پر شکایات کا ازالہ اور باقاعدہ جائزہ لینا ہے۔

اس کمیٹی کے ارکان ہوں گے:ممبر ان لینڈ ریونیو (آپریشنز)، ایف بی آر،ممبر لیگل ان لینڈ ریونیو، ایف بی آر،ایف پی سی سی آئی کے صدر یا نامزد نمائندہ،کراچی چیمبر آف کامرس اینڈ انڈسٹری کے صدر یا نامزد نمائندہ،لاہور چیمبر آف کامرس اینڈ انڈسٹری کے صدر یا نامزد نمائندہ،چیف (سیلز ٹیکس آپریشنز)، ان لینڈ ریونیو اس کمیٹی کے سیکرٹری ہوں گے۔

کمیٹی ضرورت کے تحت متعلقہ کاروباری شعبے کے نمائندے بھی شامل کر سکے گی، اور ہر دو ہفتے میں ایک بار اجلاس کرے گی تاکہ دفعہ 40B کے تحت کیے گئے اقدامات سے متعلق شکایات کا جائزہ لیا جا سکے۔

متعلقہ صنعتی ایسوسی ایشن کو بھی کمیٹی کے سامنے اپنا مؤقف پیش کرنے کا موقع دیا جائے گا۔

کمیٹی کا دائرہ کار قانون کے منصفانہ اور شفاف نفاذ کی نگرانی تک محدود ہوگا۔

کمیٹی کی سفارشات چیئرمین ایف بی آر کو بھجوائی جائیں گی، جو بدانتظامی کی نشاندہی کی صورت میں متعلقہ افسران کے خلاف کارروائی کر سکتے ہیں۔

کاپی رائٹ بزنس ریکارڈر، 2025