پاکستان ٹیکسٹائل کونسل (پی ٹی سی) نے فیڈرل بورڈ آف ریونیو (ایف بی آر) کی جانب سے حال ہی میں جاری کردہ ایس آر او 1359(I)/2025 پر شدید تحفظات کا اظہار کیا ہے۔ کونسل کا کہنا ہے کہ اگر ان ترامیم کو موجودہ شکل میں نافذ کیا گیا تو یہ پاکستان کی ٹیکسٹائل اور ملبوسات کی برآمدات کو شدید نقصان پہنچائیں گی، خصوصاً ایسے وقت میں جب یہ شعبہ بیرونی دباؤ کا پہلے ہی شکار ہے۔
کونسل کے مطابق، اگرچہ وزیراعظم کی جانب سے ایک اعلیٰ سطح کمیٹی (جس کی سربراہی احسن اقبال کر رہے ہیں) تشکیل دی گئی تھی تاکہ ایکسپورٹ فیسلیٹیشن اسکیم (ای ایف ایس) کا نجی شعبے سے مشاورت کے بعد جائزہ لیا جائے اور اس میں اصلاحات کی جائیں، لیکن کمیٹی کی ہفتوں پر محیط مشاورت اور اسٹیک ہولڈرز کے درمیان اتفاق رائے پر مبنی سفارشات کو مکمل طور پر نظر انداز کر دیا گیا ہے۔
کونسل نے مؤقف اختیار کیا ہے کہ حالیہ ترامیم نے کمیٹی کی سفارشات کو روند ڈالا ہے اور صنعت کے بنیادی خدشات کو نظر انداز کیا گیا ہے۔ ان ترامیم میں سب سے زیادہ نقصان دہ شق کپاس، کاٹن یارن اور گرے کلاتھ جیسے بنیادی خام مال کو ای ایف ایس کے دائرہ کار سے نکال دینا ہے۔
یہ خام مال پاکستان کی ٹیکسٹائل ویلیو چین کی بنیاد ہیں۔ ان کو اسکیم سے نکالنے کا مطلب یہ ہے کہ برآمدکنندگان کو اب درآمدی ڈیوٹی اور سیلز ٹیکس ایڈوانس میں ادا کرنا ہوگا، حالانکہ یہ ادارے ملک کے لیے قیمتی زرمبادلہ پیدا کرتے ہیں۔
پی ٹی سی کے چیئرمین فواد انور نے کہا کہ یہ دراصل برآمدات پر ایک نیا ٹیکس ہے۔ یہ ناقابلِ فہم ہے کہ جب پاکستان اپنی معیشت کو مستحکم کرنے اور زرمبادلہ حاصل کرنے کے لیے جدوجہد کر رہا ہے، تو حکومت ایسے اقدامات کر رہی ہے جو برآمدکنندگان کے لیے حالات مزید مشکل بنا دیں گے۔
کونسل نے ایف بی آر کے چیئرمین راشد لنگڑیال کو تفصیلی اعتراضات اور پالیسی سفارشات پیش کی ہیں اور یہ معاملہ وزیراعظم آفس، وزیر منصوبہ بندی، وزیر تجارت اور وزیر خزانہ تک بھی باضابطہ طور پر پہنچایا ہے۔ کونسل نے حکومت سے مطالبہ کیا ہے کہ وہ فوری طور پر ان خام مال کو ای ایف ایس سے خارج کرنے کی شق واپس لے اور دیگر سخت گیر ترامیم پر بھی نظرثانی کرے جو اسکیم کو غیر مؤثر بنا دیں گی۔
پی ٹی سی کی جانب سے اٹھائے گئے اہم نکات میں شامل ہیں:(i) تمام ای ایف ایس صارفین کے لیے خام مال کے استعمال کی مدت کم از کم 18 ماہ برقرار رکھی جائے، اور مفصل گوشوارے مقررہ قواعد کے مطابق جمع کرائے جائیں؛(ii) نئے ای ایف ایس صارفین کو ڈکلیئرڈ پیداواری صلاحیت کی بنیاد پر عبوری اجازت دی جائے؛(iii) بینک گارنٹی کے بجائے انشورنس گارنٹی کی اجازت دی جائے تاکہ کمپلائنس لاگت میں کمی ہو؛(iv) ٹول مینوفیکچرنگ پر عائد سخت حدود مثلاً 60 دن کی مدت اور فروش کنندگان کی تفصیلات فراہم کرنے کی شرط میں نرمی کی جائے؛(v) فزیکل سیمپلنگ کی سخت اور مداخلت پر مبنی شقوں کو واپس لیا جائے؛(vi) کپاس، یارن اور گرے کلاتھ کو ای ایف ایس کی کوریج میں برقرار رکھا جائے، کیونکہ ان کو اسکیم سے نکالنے پر کبھی اتفاق نہیں ہوا تھا۔
پی ٹی سی نے چیئرمین ایف بی آر کو ارسال کردہ مراسلے میں کہا ہے کہ صرف یہ طے پایا تھا کہ 43/ایس کاؤنٹ اور اس سے اوپر کی کاٹن یارن پر ریفنڈیبل جی ایس ٹی عائد کیا جا سکتا ہے، نہ کہ اسے ای ایف ایس سے مکمل طور پر خارج کیا جائے۔ لہٰذا، کاٹن، کاٹن یارن اور گرے کلاتھ کو اسکیم سے نکالنے کی شق فوری طور پر واپس لی جائے۔
کونسل نے کہا کہ یہ تبدیلیاں ایسے وقت میں کی جا رہی ہیں جب پاکستان کی ٹیکسٹائل و ملبوسات کی برآمدات پہلے ہی عالمی سطح پر بڑھتے ہوئے تحفظاتی اقدامات کا سامنا کر رہی ہیں، جن میں امریکہ کی جانب سے پاکستانی مصنوعات پر عائد کردہ حالیہ جوابی ٹیرف شامل ہیں۔ ان اقدامات سے برآمدی مسابقت مزید متاثر ہوگی۔
پی ٹی سی نے حکومت پاکستان سے پرزور مطالبہ کیا ہے کہ ان ترامیم کے نفاذ کو فوری طور پر معطل کیا جائے اور وزیراعظم کی ہدایت پر تشکیل دی گئی کمیٹی کی سفارشات کی روشنی میں اتفاقِ رائے سے ترامیم کی جائیں۔
کاپی رائٹ بزنس ریکارڈر، 2025