سندھ سولر منصوبے کے تحت مجموعی عملدرآمد کی رفتار گزشتہ دو جائزہ مشنز کے مقابلے میں کم ہوئی ہے، اور غالب امکان ہے کہ منصوبہ اپنی اختتامی تاریخ تک مکمل نہیں ہو سکے گا۔

سرکاری دستاویزات سے انکشاف ہوا ہے کہ عالمی بینک نے اب تک منصوبے کے نظرثانی شدہ کل تخمینے 95.09 ملین ڈالر (اصل تخمینہ 100 ملین ڈالر) میں سے 92.6 ملین ڈالر جاری کیے ہیں، تاہم مجموعی عملدرآمد کی پیش رفت ’’درمیانے درجے پر غیر اطمینان بخش‘‘ قرار دی گئی ہے۔

یہ منصوبہ عالمی بینک کے ایگزیکٹو ڈائریکٹرز کے بورڈ نے 14 جون 2018 کو منظور کیا تھا اور یہ 9 جنوری 2019 کو مؤثر ہوا۔ منصوبے کی اصل اختتامی تاریخ 29 ستمبر 2023 تھی، جسے بعد ازاں بڑھا کر 31 جولائی 2025 کر دیا گیا۔

دستاویزات کے مطابق، جنوری اور اپریل 2025 میں ہونے والے جائزہ مشنز کے مقابلے میں منصوبے کے مختلف اجزاء کے تحت کام کی رفتار مزید سست ہو گئی ہے۔ اگرچہ پروجیکٹ مینجمنٹ یونٹ (پی ایم یو) نے دستیاب تمام فنڈز مختص کر دیے ہیں اور 95 فیصد رقوم خرچ کر دی گئی ہیں، اور منصوبے کے اختتام تک 100 فیصد تک پہنچنے کا ارادہ ہے، مگر ہر جزو کے تحت پیش رفت مطلوبہ سطح سے پیچھے ہے اور وقت پر مکمل ہونے کا امکان کم ہے۔

منصوبے کے اختتام کے بعد، سندھ حکومت اور پی ایم یو مل کر ایک ’’پوسٹ-کلوزر ایکشن پلان‘‘ تیار کریں گے، جس کے لیے سندھ حکومت مالی وسائل فراہم کرے گی، جبکہ پی ایم یو کو برقرار رکھا جائے گا تاکہ اختتامی مراحل کے تمام اقدامات مکمل کیے جا سکیں۔

کاپی رائٹ بزنس ریکارڈر، 2025